قومی ووٹرز کی تازہ ترین تفصیلات جاری، کل تعداد کتنی ہوگئی؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
الیکشن کمیشن نے قومی ووٹرز کی تازہ ترین تفصیلات جاری کر دیں جس کے مطابق ملک بھر میں ووٹرز کی کل تعداد 13 کروڑ 34 لاکھ 17 ہزار 505 ہوگئی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 83 ہزار 661 ہوگئی۔
پنجاب میں ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 60 لاکھ 10 ہزار 349 اور سندھ میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 79 لاکھ 81 ہزار 501 ہوگئی۔ خیبر پختونخوا میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 26 لاکھ 75 ہزار 553 اور بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد 55 لاکھ 66 ہزار 441 ہوگئی۔
ملک بھر میں مرد ووٹرز 7 کروڑ 16 لاکھ 54 ہزار 092 اور خواتین ووٹرز 6 کروڑ 17 لاکھ 63 ہزار 413 ہیں۔ اسلام آباد میں مرد ووٹرز 6 لاکھ 19 ہزار 573 اور خواتین ووٹرز 5 لاکھ 64 ہزار 88 ہیں۔
پنجاب میں مرد ووٹرز 4 کروڑ 04 لاکھ 67 ہزار 887 اور خواتین ووٹرز 3 کروڑ 55 لاکھ 42 ہزار 462 ہیں جبکہ سندھ میں مرد ووٹرز 1 کروڑ 51 لاکھ 18 ہزار 228 اور خواتین ووٹرز 1 کروڑ 28 لاکھ 63 ہزار 273 ہیں۔
خیبر پختونخوا میں مرد ووٹرز 1 کروڑ 23 لاکھ 30 ہزار 460 اور خواتین ووٹرز 1 کروڑ 03 لاکھ 45 ہزار 93 ہیں جبکہ بلوچستان میں مرد ووٹرز 31 لاکھ 17 ہزار 944، خواتین ووٹرز 24 لاکھ 48 ہزار 497 ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ووٹرز کی تعداد اور خواتین ووٹرز میں مرد ووٹرز ووٹرز 1 کروڑ
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔