مودی سرکارکی مسلمان دشمنی، کھلی جگہوں پرنمازعید کی ادائیگی پرپاسپورٹ، ڈرائیونگ لائنس منسوخ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
بھارت میں نریندر مودی کی ہندو انتہا پسند حکومت نے مسلمانوں کے لیے عید کی نماز ادا کرنا بھی مشکل بنا دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ میں ہندو انتہا پسند پولیس نے مسلمانوں کو کھلی جگہوں پر نمازعید کی ادائیگی سے روک دیا۔ میرٹھ پولیس کی جانب سے مسلمانوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر کسی بپلک مقام یا سڑک پرعید کی نماز ادا کی گئی تو پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق کوئی بھی شخص اگر سڑک پرعید کی نماز پڑھتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی۔ مسلمان عید کی نماز صرف مساجد میں ادا کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں دیگر سخت قانونی کارروائیاں بھی کی جائیں گی۔
گزشتہ سال میرٹھ میں سڑک پر عید کی نماز پڑھنے والے 200 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے اور 80 افراد کو شناخت کرکے کارروائی کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی نماز
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔