بھارتی ریاست آسام کے شہر دبروگڑھ سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو خاتون کی شناخت چرا کر، ان کے چہرے کا استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ایک جعلی انسٹاگرام ماڈل “Babydoll Archi” تخلیق کی گئی، جو نہ صرف وائرل ہو گئی بلکہ سوشل میڈیا پر 14 لاکھ فالوورز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی — حالانکہ حقیقت میں ایسی کوئی عورت موجود ہی نہیں تھی۔

بے بی ڈول آرچی کی مقبولیت

 بے بی ڈول آرچی کے انسٹاگرام پر وائرل ہونے کی بنیادی وجہ اس کی ویڈیوز اور تصاویر تھیں، جن میں سے ایک ویڈیو میں وہ لال ساڑھی میں رومانوی انداز میں رقص کر رہی تھی، جبکہ ایک دوسری تصویر میں اسے معروف امریکی فحش اداکارہ کینڈرا لسٹ کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔

جلد ہی بے بی ڈول آرچی گوگل پر ٹرینڈ کرنے لگی، میمز بننے لگے، اور پھر اس کے مداحوں کے صفحات بھی تخلیق ہو گئے۔ تاہم، جب اس کے پیچھے موجود حقیقت سامنے آیا، تو سب حیران رہ گئے کہ آرچی  دراصل ایک ڈیپ فیک تھی، جس میں ایک حقیقی بھارتی خاتون ’سانچی‘ (فرضی نام) کا چہرہ استعمال کیا گیا۔

 پولیس تحقیقات اور سابق بوائے فرینڈ کی گرفتاری

سانچی کے بھائی نے 11 جولائی کو پولیس میں شکایت درج کروائی، جس کے بعد معاملے کی تہہ تک جانے پر پتہ چلا کہ یہ سب کچھ سانچی کے سابق بوائے فرینڈ پرتیم بورا نے ’انتقام‘ کی نیت سے کیا تھا۔

سانچی

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ، پولیس افسر سِجل اگروال کے مطابق ملزم پرتیم بورا ایک مکینیکل انجینئر اور خودساختہ AI ماہر ہے، جس نے سانچی کی نجی تصاویر لے کر ان میں ترمیم کی اور پھر انہیں ڈیپ فیک ویڈیوز و تصاویر میں تبدیل کر کے انسٹاگرام پر اپ لوڈ کیا۔

پولیس نے پرتیم بورا کو 12 جولائی کی شام گرفتار کر کے اس کا لیپ ٹاپ، موبائل فونز، ہارڈ ڈرائیوز اور بینک ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔

 مالی فائدہ اور سوشل میڈیا کی خاموشی

پولیس کے مطابق  بے بی ڈول آرچی کے لنک ٹری (Linktree) پر تقریباً 3,000 سبسکرائبرز تھے، اور اندازہ ہے کہ بورا نے اس جعلی شناخت سے 10 لاکھ بھارتی روپے کمائے، جن میں سے صرف 5 دنوں میں 3 لاکھ روپے حاصل کیے گئے۔

سانچی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس پورے معاملے کا علم اس وقت ہوا جب مین اسٹریم میڈیا اور نیوز پورٹلز پر  آرچی  کو بطور ’انفلوئنسر‘ پیش کیا جانے لگا — یہاں تک کہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ وہ امریکی فحش انڈسٹری میں شامل ہونے والی آسام کی پہلی خاتون بننے جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق انسٹا گرام سے حاصل شدہ معلومات کی مدد سے بورا کا پتہ چلایا گیا، اور شکایت کنندہ سانچی سے اس کی شناخت کی تصدیق کروا کر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

 انسٹاگرام اور AI ٹیکنالوجی کا غیر اخلاقی استعمال

انسٹاگرام نے بے بی ڈول آرچی کا اکاؤنٹ (جس پر 282 پوسٹس تھیں) پبلک سے ہٹا دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور ویڈیوز اب بھی گردش کر رہی ہیں، اور ایک نیا انسٹاگرام اکاؤنٹ ان سب کو دوبارہ شیئر کر رہا ہے۔

اب تک میٹا (Meta) نے اس کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، حالانکہ حالیہ مہینوں میں AI ٹولز کے ذریعے جنسی نوعیت کی جعلی ویڈیوز کی تشہیر کرنے والے اشتہارات کو پلیٹ فارم سے ہٹانے کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔

 قانونی ماہرین کی رائے: خواتین اور AI کا استحصال

مصنوعی ذہانت کی ماہر اور وکیل میگھنا بال کا کہنا ہے ’جو سانچی کے ساتھ ہوا، وہ انتہائی افسوسناک ہے لیکن اسے مکمل طور پر روکنا تقریباً ناممکن ہے۔‘

ان کے مطابق متاثرہ خاتون عدالت جا کر ‘حقِ فراموشی’ (Right to be Forgotten) کی اپیل کر سکتی ہیں، مگر انٹرنیٹ سے تمام نشانات مکمل طور پر مٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

میگھنا بال نے مزید کہا کہ  ’یہ دراصل خواتین کے خلاف انتقامی کارروائی کا تسلسل ہے، اب AI نے اسے آسان بنا دیا ہے۔ ایسے کیسز یا تو بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں یا متاثرہ فرد کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس استحصال کا شکار بن چکی ہے۔‘

 قانونی چارہ جوئی اور ممکنہ سزا

پرتیم بورا کے خلاف پولیس نے جنسی ہراسانی، فحش مواد کی اشاعت، بدنامی، جعلسازی، شناخت چرانے اور سائبر کرائم کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اگر جرم ثابت ہو گیا تو اسے 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے اخلاقیات پر مصنوعی ذہانت کے ساتھ ایک مکالمہ

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے معاملات کے لیے سخت تر قوانین بنائے جائیں۔

 کیا AI اخلاقی کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے؟

یہ کیس صرف ایک عورت کی شناخت کے چرانے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ڈیپ فیک، مصنوعی ذہانت، پرائیویسی اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

کیا موجودہ قوانین ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے کافی ہیں؟ کیا تکنیکی پلیٹ فارمز پر ذمہ داری عائد کی جانی چاہیے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا AI ٹیکنالوجی انسانی عزت و حرمت سے بالا ہو گئی ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارتی ریاست آسام بے بی ڈول آرچی ڈیپ فیک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارتی ریاست ا سام ڈیپ فیک مصنوعی ذہانت سوشل میڈیا پرتیم بورا کی شناخت سانچی کے کے مطابق ڈیپ فیک

پڑھیں:

بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے سوالات پر پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے ویڈیو ثبوت کے ساتھ جواب دیدیے۔آزاد کشمیر کے انتخابی جلسے میں پنجاب کے شہروں کی صورتِ حال پر سوال اٹھاتے بلاول کو پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگ زیب نے ویڈیو جاری کر کے جواب دیا۔ بلاول نے لاہور کے علاوہ پنجاب کے جن شہروں کے حالات پر سوال اٹھایا ، مریم اورنگزيب نے انہی شہروں کی ویڈیو شیرکردی۔مریم اورنگزيب نے پنجاب کے مختلف شہروں کی سڑکوں اور صفائی کی صورتِحال کی ویڈیو شیئر کی۔ وہاڑی اور قصور پر بلاول کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وہاڑی اور قصور کی سڑکوں ، گلیوں اور صفائی کی صورتِ حال کی ویڈیو کے ساتھ دیا۔

متعلقہ مضامین

  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا