بھارتی کامیڈین سمے رائنا نے انکشاف کیا ہے کہ ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ تنازعے نے ان کی ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے اور ان کے کینیڈا کے دورے کو بھی متاثر کیا ہے۔

اسٹینڈ اپ کامیڈین سمے رائنا، جو اپنے شو ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ میں بھارتی یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کے متنازع بیان سے متعلق تنازع کے فوراً بعد اپنے کینیڈا کے دورے کے لیے روانہ ہو گئے تھے، ممبئی واپس آ گئے ہیں اور آخر کار انہوں نے اس معاملے پر اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔

کئی سماعتوں کے بعد رائنا اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے مہاراشٹر سائبر پولیس کے سامنے پیش ہوئے جہاں انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے احساس ہے کہ میں نے جو کہا وہ غلط تھا‘۔

کامیڈین نے حکام کو بتایا کہ ’میں نے جو کچھ کہا اس پر مجھے گہرا افسوس ہے۔ یہ شو کے دوران ہوا، اور میرا ایسا کہنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، میں محتاط رہوں گا کہ اگلی بار ایسا دوبارہ نہیں ہوگا‘۔

مزید برآں، سمے رائنا نے یہ بھی اعتراف کیا، اس پورے معاملے کی وجہ سے ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور ان کا کینیڈا کا دورہ بھی اس معاملے کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 10 فروری کو یہ تنازع شروع ہوا جب رنویر الہ آبادیہ عرف بیئر بائسپس نے رائنا کے یوٹیوب شو ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ پر والدین سے متعلق فحش تبصرے کیے تھے۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار