Express News:
2026-07-24@01:30:57 GMT

بلوچستان اور حبیب جالب

اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT

ڈاکٹر مالک بلوچ کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ علاقے مکران ڈویژن کے شہر تربت سے ہے، وہ بنیادی طور پر ماہر امراض چشم ہیں۔ وہ نوجوانی سے ہی طلبہ کی تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں متحرک رہے۔

جب ڈاکٹر مالک بولان میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہوئے تو بلوچستان نیشنل موومنٹ میں شامل ہوگئے، وہ 90کی دہائی میں سابق وزیراعلیٰ علی اکبر بگٹی کی حکومت میں وزیر صحت کے عہدے پر فائز رہے۔ بی این ایم اور میر حاصل بزنجو کی جماعت نیشنل پارٹی میں ضم ہوگئی تو 2013کے انتخابات میں ڈاکٹر مالک بلوچ مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان بن گئے۔

بلوچستان کی تاریخ میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ پہلے وزیر اعلیٰ تھے۔ ڈاکٹر مالک کے دور میں بلوچستان میں امن کے مستقل قیام کے لیے اقدامات ہوئے۔ ڈاکٹر مالک نے جلا وطن بلوچ رہنماؤں کو بلوچستان واپس لانے کے لیے مذاکرات کیے۔ ان کے مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچنے والے تھے، تو ان کی حکومت تحلیل کردی گئی۔ ڈاکٹر مالک کے دور میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں حیرت انگیز ترقی ہوئی مگر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔

ڈاکٹر مالک بلوچ کی نیشنل پارٹی کو 2018 کے انتخابات میں کوئی نشست نہیں دی گئی۔ ڈاکٹر مالک آج کل بلوچستان اسمبلی کے رکن ہیں۔ انھیں ابھی تک وزیر اعظم کی زیرِ صدارت اجلاسوں میں مدعو کیا جاتا ہے مگر ڈاکٹر مالک کی بلوچستان کے حالات کو معمول پر لانے کی تجاویز پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

گزشتہ دنوں بولان کے علاقے میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد ڈاکٹر مالک نے مختلف فورمز اور میڈیا پر اپنی تقاریر کے دوران بلوچستان کے بگڑے حالات، ان کی وجوہات اور مسائل کے حل پر مشتمل تجاویز پیش کیں۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے بلوچستان کے حالات کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کے سائے میں دوبارہ انتخابات ہوئے تو بلوچ قوم ان انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔

ڈاکٹر مالک نے ان حالات کو بہتر بنانے کے لیے یہ تجویز دی کہ طاقت سے مسائل حل نہیں ہونگے، بلکہ زیادہ طاقت استعمال کرنے سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ ڈاکٹر مالک نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں انتخابات کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان انتخابات میں لوگ ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن نہیں جائیں گے۔ ڈاکٹر مالک نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی باضابطہ مذاکرات ہوں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ مسلح گروہوں کے پاس بیانیہ ہے جو نوجوانوں کے ذہنوں میں سرایت کر رہا ہے مگر ریاست کے پاس ان نوجوانوں کے لیے کوئی متاثر کن بیانیہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر مالک کا یہ خیال ہے کہ بلوچستان میں 20 سال سے حالات خراب ہیں اور اس عرصے میں دعوؤں کے باوجود حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ اس بناء پر قطعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کے حالات کا حل صرف مذاکرات ہیں۔

جان بلیدی بنیادی طور پر انجنیئر ہیں مگر وہ طالب علمی کے زمانہ میں بلوچ طلبہ کی تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس میں فعال رہے۔ وہ 80 دہائی کے آخری عشرے میں بننے والی سیاسی جماعت بلوچستان نیشنل موومنٹ کا حصہ رہے، جب بی این ایم اور نیشنل پارٹی میں انضمام ہوا تو جان بلیدی نیشنل پارٹی کا حصہ بن گئے، وہ نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل رہے۔ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہے اور آج کل نیشنل پارٹی کے سینیٹر ہیں۔

جان بلیدی اور نیشنل پارٹی کے اکابرین پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ جان بلیدی نے 2018کے انتخابات میں حصہ لیا مگر الیکشن کمیشن انھیں کامیابی کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا۔ سینیٹر بلیدی کا کہنا ہے کہ ایک سوچ یہ رہی ہے کہ بلوچستان کے مسائل سیاسی طور پر حل نہیں ہونگے۔ اس کے مقابلے میں سیاسی سوچ بھی ہے کہ ہمیں پاکستان میں رہنا ہے اور اپنے مسائل جمہوری طریقے سے حل کرسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انتخابات کو ریگولیٹ کیا جانا تو عام سی بات ہوگئی ہے کہ سیاسی سوچ کو اہمیت نہیں دی جاتی جس کی بناء پر فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

جان بلیدی کہتے ہیں کہ ریاست کو عوام میں اعتماد قائم کرنے کے لیے بنیادی فیصلے کرنے ہونگے مگر ریاست اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ منصفانہ نہیں ہے ۔

اختر مینگل کے والد سردار عطاء اﷲ مینگل نیشنل پارٹی کے رہنما تھے۔ جب 1972میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام نے بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم کی تو صدر ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کے رہنما میرغوث بخش بزنجوکو بلوچستان کا گورنر اور سردار عطاء اللہ مینگل کو وزیراعلیٰ مقررکیا۔ یہ بلوچستان کے منتخب نمایندوں کی پہلی حکومت تھی، مگر پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے 9 ماہ بعد اس حکومت کو برطرف کردیا اور نیشنل عوامی پارٹی کے تمام رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

اختر مینگل 90 کی دہائی میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بنے مگر ان کی حکومت بھی ختم کردی گئی۔ اختر مینگل کو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کئی سال تک کراچی سینٹرل جیل میں مقید رکھا گیا، وہ سابق وزیر اعظم بانی تحریک انصاف کے خلاف مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں قائم ہونے والے اتحاد پی ڈی ایم کا حصہ تھے مگر جب 2024کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن نے دوبارہ صف بندی کی تو سردار اختر مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی اور محمود خان اچکزئی کی جماعت کو نظر اندازکردیا گیا۔

اختر مینگل گزشتہ انتخابات میں خود تو کامیاب ہوئے مگر ان کی جماعت کے کچھ اراکین کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اختر مینگل نے بلوچستان کے بارے میں وفاق کی پالیسیوں سے مایوس ہوکر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔ اگرچہ ان کا استعفیٰ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے منظور نہیں کیا مگر انھوں نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات اتنے خراب ہیں کہ ریاست کا بلوچستان کے مختلف علاقوں کا کنٹرول ختم ہوچکا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت منحرفین کو خاموش کیا جا رہا ہے اور حکومت وعدہ کے باوجود لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں کر پا رہی۔

 اب بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ عید کے بعد آل پارٹیزکانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں کی متفقہ رائے ہے کہ حالیہ گرفتاریوں اور لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے سے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمن نے بھی حالیہ گرفتاریوں اور لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے کے خلاف احتجاج کا طریقہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر طاہر بزنجو نے اس نکتے پر خاص طور پر زور دیا ہے کہ بلوچستان میں 20 برسوں سے بدامنی کے خلاف مسلسل آپریشن ہو رہے ہیں اور حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل صرف مذاکرات ہی ہیں۔ کوئٹہ سے جیکب آباد جانے والی ریلوے لائن پر ریل گاڑیوں کی آمد 15دن سے بند ہے، البتہ گزشتہ روز یہ خوش آیند خبر سامنے آئی ہے کہ جعفر ایکسپریس کو دوبارہ بحال کردیا گیا ہے، جب کہ بولان ایکسپریس اب پورا ہفتہ چلے گی جب کہ پہلے ہفتے میں صرف دو دن چلتی تھی۔

بلوچستان کو سندھ، پنجاب اور پختون خوا سے ملانے والی شاہراہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنوں اور آپریشن کی بناء پر بند رہتی ہے۔ کوئٹہ میں بھی انٹرنیٹ سروس بند ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اب تو انتظامیہ نے باقاعدہ ہدایات جاری کی ہیں کہ کوئٹہ سے شام کے بعد دیگر شہروں کو جانے والی ٹریفک پر پابندی ہوگی۔ کوئٹہ سے آنے جانے کا واحد ہوائی راستہ ہے جس کا ٹکٹ ہنگامی ضرورت کی بناء پر 80 ہزار تک پہنچ گیا ہے اور گوادر سے کراچی آنے والی فلائٹ کا ٹکٹ بھی تقریباً 70سے 80 ہزار میں دستیاب ہے۔

ان حالات میں مزید کسی آپریشن سے صورتحال بہتر ہونے کے بجائے خراب ہوگی اور حبیب جالب کی تاریخی نظم کے یہ اشعار پھر حقیقت بن جائیں گے:

محبت گولیوں سے بو رہے ہو

وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو

گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلوچستان کے حالات حالات مزید خراب بلوچستان نیشنل ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے کہ بلوچستان کے ڈاکٹر مالک نے بلوچستان میں انتخابات میں کے انتخابات اختر مینگل جان بلیدی اور نیشنل کی جماعت بناء پر کہا کہ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک