وزیراعظم کا پرائیویٹ حج کوٹے میں کمی کاسخت نوٹس، کمیٹی تشکیل دیدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
(ویب ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال پرائیویٹ حج کوٹے میں کمی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری انکوائری کا حکم دےدیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف سے سعودی وزارت حج کی 2025 کے حج بارے پالیسی پر بروقت مقررہ شیڈول میں عمل کر کے پرائیویٹ حج کوٹہ حاصل نہ ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری انکوائری کا حکم دےدیا ہے۔
شہباز شریف نے انکوائری کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کے چیئرمین سیکرٹری کابینہ ڈویژن ہوں گے، کمیٹی کے دیگر اراکین میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور وفاقی سیکرٹری گلگت بلتستان شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازحکومت کا ایک اورسنگ میل
کمیٹی کو کہا گیا ہے کہ وہ انکوائری کرے کہ سعودی وزارت حج کی اس سال پرائیویٹ حج پالیسی پر وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کیوں بروقت عمل درآمد نہیں کر سکی، پرائیویٹ حج کے کوٹے کے لیے سعودی وزارت حج سے بروقت کیوں نہیں کہا جا سکا۔
پرائیویٹ حج کوٹہ نہ ملنے سے ہزاروں پاکستانی اس سال حج سے محروم رہ گئے، کمیٹی تین روز میں انکوائری کر کے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے اور اس سلسلے میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اس بابت کمیٹی سے مکمل تعاون کی پابند ہو گی۔
جمہوری وطن پارٹی کے رہنما نواب گہرام بگٹی گرفتار
کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔