لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے گزشتہ روز واپڈا ہاؤس لاہور کا دورہ کیا۔ سینئر افسروں اور ملازمین سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا اور نیشنل گرڈ میں کم لاگت پن بجلی شامل کرنا وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو اور تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے سمیت دیگر منصوبوں پر اہم اہداف حاصل کرنے پر واپڈا کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے وزارت آبی وسائل کی جانب سے واپڈا کو بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ واپڈا پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے پرعزم ہے اور اس وقت پانی اور پن بجلی کے شعبوں میں 8 بڑے منصوبوں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ، کرم تنگی ڈیم (پہلا مرحلہ)، نائے گاج ڈیم، کچھی کینال توسیعی منصوبہ اور گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم (کے فور) پر کام جاری ہے۔ یہ منصوبے 2026ء سے 2029-30ء کے دوران مکمل ہوں گے، جن کے ذریعے پن بجلی کی پیداوار میں 10 ہزار میگاواٹ اضافہ ہو گا۔ ملک کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 97 لاکھ ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا اور 39 لاکھ ایکڑ مزید اراضی زیرکاشت آئے گی جبکہ کراچی اور پشاور کو یومیہ 950 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پن بجلی

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار