پانی، پن بجلی منصوبوں کی تکمیل میں واپڈا کا اہم کردار‘ تعاون کریں گے: وزیر آبی وسائل
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے گزشتہ روز واپڈا ہاؤس لاہور کا دورہ کیا۔ سینئر افسروں اور ملازمین سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا اور نیشنل گرڈ میں کم لاگت پن بجلی شامل کرنا وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو اور تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے سمیت دیگر منصوبوں پر اہم اہداف حاصل کرنے پر واپڈا کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے وزارت آبی وسائل کی جانب سے واپڈا کو بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ واپڈا پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے پرعزم ہے اور اس وقت پانی اور پن بجلی کے شعبوں میں 8 بڑے منصوبوں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ، کرم تنگی ڈیم (پہلا مرحلہ)، نائے گاج ڈیم، کچھی کینال توسیعی منصوبہ اور گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم (کے فور) پر کام جاری ہے۔ یہ منصوبے 2026ء سے 2029-30ء کے دوران مکمل ہوں گے، جن کے ذریعے پن بجلی کی پیداوار میں 10 ہزار میگاواٹ اضافہ ہو گا۔ ملک کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 97 لاکھ ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا اور 39 لاکھ ایکڑ مزید اراضی زیرکاشت آئے گی جبکہ کراچی اور پشاور کو یومیہ 950 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پن بجلی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔