فوجی سرگرمیاں ریکارڈ ہونیکا خدشہ، برطانوی اراکین پارلیمنٹ اسرائیل سے ڈی پورٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
لندن سے خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دونوں برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو تھوڑی دیر حراست میں رکھ کر وطن واپس روانہ کر دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ کی 2 ارکان پارلیمان کو اسرائیل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، برطانیہ نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ لندن سے خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دونوں برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو تھوڑی دیر حراست میں رکھ کر وطن واپس روانہ کر دیا گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کے ارکان پارلیمان یوان یینگ اور ابتسام محمد گذشتہ رات اسرائیل پہنچے تھے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کو شبہ تھا کہ برطانوی ارکان پارلیمان اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی سرگرمیاں ریکارڈ کریں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کو شبہ تھا کہ برطانوی ارکان پارلیمان اسرائیل مخالف جذبات پھیلائیں گے۔ خبر ایجنسی کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اسرائیل کی جانب سے برطانوی ارکان پارلیمان سے برتاؤ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کو باور کرا دیا ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمان کے ساتھ ایسا برتاؤ ناقابل قبول ہے، برطانیہ غزہ تنازع کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی کا خواہاں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔