میٹا نے نئے اے آئی ماڈلز متعارف کرا دئیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
میٹا نے اپنے نئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈلز متعارف کروا دیے ہیں جنہیں لاما 4 اسکاؤٹ اور لاما 4 میوریک کہتے ہیں۔
میٹا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ لاما ایک ملٹی ماڈل اے آئی سسٹم ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملٹی ماڈل سسٹمز ویڈیو، امیجز اور آڈیو سمیت مختلف قسم کے ڈیٹا کو پروسیس اور انٹیگریٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان تمام فارمیٹس میں مواد کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ لاما 4 اسکاؤٹ اور لاما 4 میوریک کمپنی کے اب تک کے سب سے جدید ماڈلز ہیں اور ملٹی ماڈیلٹی کے لیے بہترین ہیں۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ لاما 4 اسکاؤٹ اور لاما 4 مووریک اوپن سورس سافٹ ویئر ہوں گے۔ جبکہ لاما 4 بیہیموت کی تیاری کا عمل ابھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ اوپن اے آئی کے اے آئی چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی کامیابی کے بعد بڑی ٹیکنالوجی فرمز آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بنیادی ڈھانچے میں جارحانہ انداز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بتایا گیا کہ لاما اے ا ئی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔