میٹا نے نئے اے آئی ماڈلز متعارف کرا دئیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
میٹا نے اپنے نئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈلز متعارف کروا دیے ہیں جنہیں لاما 4 اسکاؤٹ اور لاما 4 میوریک کہتے ہیں۔
میٹا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ لاما ایک ملٹی ماڈل اے آئی سسٹم ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملٹی ماڈل سسٹمز ویڈیو، امیجز اور آڈیو سمیت مختلف قسم کے ڈیٹا کو پروسیس اور انٹیگریٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان تمام فارمیٹس میں مواد کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ لاما 4 اسکاؤٹ اور لاما 4 میوریک کمپنی کے اب تک کے سب سے جدید ماڈلز ہیں اور ملٹی ماڈیلٹی کے لیے بہترین ہیں۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ لاما 4 اسکاؤٹ اور لاما 4 مووریک اوپن سورس سافٹ ویئر ہوں گے۔ جبکہ لاما 4 بیہیموت کی تیاری کا عمل ابھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ اوپن اے آئی کے اے آئی چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی کامیابی کے بعد بڑی ٹیکنالوجی فرمز آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بنیادی ڈھانچے میں جارحانہ انداز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بتایا گیا کہ لاما اے ا ئی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔