ملکی قانون سازی کیلئے عمران خان کا باہر آنا ضروری ہے، سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جاتا، عدالتی فیصلے کے بعد بھی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ کو یہ اختیار نہیں دے سکتے کہ بانی سے کون ملے گا۔ اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ملکی اہم قانون سازی کے لیے عمران خان کا باہر آنا ضروری ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جاتا، عدالتی فیصلے کے بعد بھی عمران خان کی بہنوں کی ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ کو یہ اختیار نہیں دے سکتے کہ بانی سے کون ملے گا، کل جن لوگوں کو جیل ملاقات کے لیے بھیجا گیا ان میں سے 2، 3 لوگوں کو نہیں جانتا، ایک ہی طریقہ کار ہے جو لسٹ ہم دیں اسی کے مطابق ملاقات کرائی جائے، رضیہ سلطانہ کو میں نہیں جانتا۔
سیکرٹری جنرل تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ناقابل قبول صورتحال ہے، اس سے شکوک اور پارٹی ڈسپلن پر ایک ضرب ہے، اگر کوئی بن بلائے جیل جاتا ہے تو ان کوسمجھ لینا چاہیے، بہنوں کو ملنے نہیں دیا گیا اور یہ لوگ اندر چلے گئے، کل جو کچھ ہوا یہ اچھا نہیں ہوا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آئندہ پارٹی میں سب کو احتیاط کرنی چاہیے، جس کا نام لسٹ میں نہ ہو وہ کسی کے کہنے پر ملاقات نہ کرے، اگر کسی کا نام لسٹ میں نہیں ہو گا تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، جن کو فون پر پیغام آتے ہیں ان کو کھل کر بات کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اپنی قبولیت کی وجہ ظاہر کریں، مولانا نے پارٹی میں مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے، کور کمیٹی کا اجلاس آج یا کل بلائیں گے، کسی کی فرمائش یا حکم پر نہیں مشاورت سے قانون سازی ہونی چاہیے، معدنیات کے حوالے سے جلد بازی میں کچھ نہیں ہوگا۔ سیکرٹری جنرل تحریک انصاف نے مزید کہا کہ ملکی اہم قانون سازی کے لیے بانی کا باہر آنا ضروری ہے، اس قانون سازی میں بہت بڑے مکالمے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل تحریک انصاف نے کہا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین نے ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ کے بانی پر پابندیاں عائد کردیں
یورپی یونین نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں ایران کے 5 ججوں اور ایک سائبر گروپ کے بانی پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں نیما صالحی بھی شامل ہیں جو ایرانی سائبر گروپ آشیانے کے بانی ہیں۔
یورپی یونین کا الزام ہے کہ یہ گروپ ایران کی سائبر پولیس فاٹا اور پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے حکومتی سطح پر معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے اور آن لائن نگرانی میں مدد فراہم کرتا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پانچ ایرانی ججوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان ججوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ جیسے جیسے ایران اندرونِ ملک کریک ڈاؤن میں شدت لا رہا ہے۔ یورپی یونین ذمہ دار افراد کا احتساب جاری رکھے گی۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے مزید کہا کہ اب تک ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں 269 افراد اور 53 ادارے یا تنظیمیں شامل کیے جا چکے ہیں۔