شہر قائد کے علاقے جنجال گوٹھ میں واقع شہناز اسپتال کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی شخص دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جنجال گوٹھ میں اپنی پولیو ورکر بہن کو شہناز اسپتال کے پوائںٹ پر چھوڑنے کیلیے آنے والے نوجوان کو ڈاکوؤں نے مزاحمت پر قتل کردیا۔

رواں سال کے دوران کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی۔

اس حوالے ہیڈ محرر سائٹ سپر ہائی وے صنتعی ایریا پولیس شفیق نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 32 سالہ قیصر کے نام سے کی گئی جو کہ جنجال گوٹھ شہناز اسپتال سے کچھ فاصلے پر ڈبل روڈ کے قریب قائم ایک عمارت میں پولیو ورکر کے لیے پوائنٹ بنایا گیا تھا جہاں پر وہ اپنی بہن کو چھوڑنے آیا تھا جو کہ پولیو ورکر ہے۔

2 ڈاکوؤں نے وہاں پہنچ کر لوٹ مار کی کوشش کی جس پر قیصر نے مزاحمت کی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں سینے پر گولی لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔

 ابتدائی طور مضروب قریب ہی قائم نجی اسپتال لیجایا گیا جسے بعدازاں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے جناح اسپتال لیجایا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

 انھوں نے بتایا کہ واقعہ تھانہ گلشن معمار کی حدود میں آتا ہے تاہم افسران کی ہدایت پر سائٹ سپرہائی وے پولیس نے ضابطے کی کارروائی کی ہے۔

 مقتول جنجال گوٹھ کا رہائشی اور اس کا آبائی تعلق کے پی کے سے تھا جس کی میت تدفین کے لیے آبائی شہر روانہ کر دی گئی ہے ، مقتول بہنوں کا اکلوتا بھائی بتایا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنجال گوٹھ ڈاکوو ں

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق