مقتول کے بیٹے اور بھائی محمد ہارون کی مدعیت میں تھانہ لاہور میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ بدھ کے روز اپنے 78 سالہ والد جمالدار، سلطنت خان اور اس کے 22 سالہ بیٹے عبدالاحد کے ہمراہ تاریخ پیشی پر عدالت گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پیشی پر آنے والے دو افراد کو عدالت کے باہر فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق صوابی میں یارحسن لاہور روڈ پر عدالت میں پیشی پر تاریخ پیشی پر آئے موٹر سائیکل سواروں پر دیرینہ دشمنی پر مخالفین نے فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ مقتولین کی شناخت 78 سالہ جمالدار اور 22 سالہ عبدالاحد کے ناموں سے ہوئی۔ مقتول کے بیٹے اور بھائی محمد ہارون کی مدعیت میں تھانہ لاہور میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ بدھ کے روز اپنے 78 سالہ والد جمالدار، سلطنت خان اور اس کے 22 سالہ بیٹے عبدالاحد کے ہمراہ تاریخ پیشی  پر عدالت گئے۔

عدالتی پیشی کے بعد واپس موٹر سائیکلوں پر روانہ ہوئے تو لاہور آدینہ روڈ پر ٹرسٹ اسپتال کی مسجد کے قریب پہلے سے تاک میں بیٹھے انور زیب، اورنگ زیب پسران ممتاز علی نے فائرنگ شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں  جمالدار اور عبدالاحد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ ملزمان کے ساتھ سابقہ قتل مقاتلہ کی دشمنی ہے، پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیشی پر

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار