WE News:
2026-07-24@02:19:28 GMT

5G اسپیکٹرم نیلامی کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT

5G اسپیکٹرم نیلامی کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے اپنی 5G  اسپیکٹرم نیلامی کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے اپنی توجہ اعلیٰ اپ فرنٹ اسپیکٹرم فیس کی وصولی کے بجائے اس کے انفرااسکٹرکچر کی ترقی پر مرکوز کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نظرثانی شدہ طریقہ کار کا مقصد اولین ترجیح مختصر مدت کے اندر ملک بھر میں 5G  تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 5G کا انتظار مزید تول پکڑ ے گا، پی ٹی اے نے وجوہات بتادیں

نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اب ایک ثانوی مقصد سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حکومت طویل مدتی اقتصادی اور تکنیکی فوائد کو فوری مالیاتی فوائد پر ترجیح دے رہی ہے۔

پالیسی کے جائزے میں شامل اہلکار سعودی عرب کے مفت لائسنس ماڈل سمیت مختلف بین الاقوامی اسپیکٹرم ایلوکیشن ماڈلز کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ اس ماڈل میں اسپیکٹرم ٹیلی کام کمپنیوں کو بغیر کسی قیمت کے سوئفٹ نیشنل رول آؤٹ کی شرط کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

پاکستانی حکومت اس حکمت عملی کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اسپیکٹرم فیس معاف کرنے سے تمام خطوں میں 5G  سروسز کے آغاز کو تیز کرنے اور ٹیلی کام آپریٹرز پر مالی بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے یا نہیں۔

اگر ٹیلی کام کمپنیوں کو اسپیکٹرم تک مفت رسائی دی جائے اور 2 سے 5 سال کے درمیان ایک مخصوص مدت کے اندر یونیورسل سروس کوریج کو یقینی بنانے کا پابند بنایا جائے تو پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی حاصل کر سکتا ہے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا خیال ہے کہ مالی رکاوٹوں کو کم کرنے سے کمپنیوں کو انفرااسٹرکچر اور ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کرنے کا موقع ملے گا جس کے نتیجے میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، صنعت اور گورننس میں وسیع تر اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

ٹیلی کام آپریٹرز نے بھی کم یا صفر لاگت والے اسپیکٹرم ماڈل کے لیے اپنی ترجیح کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ ایک متوازن حکمت عملی کی تلاش میں ہیں جو پبلک ریونیو اور ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی دونوں کو محفوظ بنائے۔ ان کے نقطہ نظر کا مقصد ڈیجیٹل سیکٹر میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔

مزید پڑھیے: 5G اسپیکٹرم کی قیمتوں کا تعین، نیلامی کا طریقہ کار کیا ہوگیا؟ معاہدہ طے پاگیا

یوفون ٹیلی نار کے مجوزہ انضمام میں تاخیر نے نادانستہ طور پر حکومت کو اتفاق رائے سے چلنے والی 5G  پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت دیا ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری میں تبدیلی کے ساتھ حکام ایک نئے روڈ میپ پر زور دے رہے ہیں جو ڈیجیٹل شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، خدمات کی فراہمی کو بہتر بناتا ہے اور جامع تکنیکی ترقی کے وسیع تر وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

5G ٹیلی کام آپریٹرز شزا فاطمہ خواجہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیلی کام آپریٹرز شزا فاطمہ خواجہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیلی کام

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ