بلوچستان کے وزرا کی اختر مینگل کے بیانات کی مذمت، دہشتگردوں کی ’’بی‘‘ ٹیم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے راہنما کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوری جدوجہد میں ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور سختیوں کے باوجود پیچھے نہیں ہٹی، انہوں نے اختر مینگل پر الزام لگایا کہ وہ خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزرا اور ترجمان بلوچستان حکومت نے اختر مینگل کے بیانات کی مذمت کردی۔ رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک کا کہنا ہے اختر مینگل کی پیپلزپارٹی پر تنقید کسی صورت قابل قبول نہیں، انہوں نے اختر مینگل کو دہشتگردوں کی ”بی ٹیم“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جیل میں موجود دیگر خواتین کے لیے آواز نہیں اٹھاتے، صرف مخصوص ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔
صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوری جدوجہد میں ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور سختیوں کے باوجود پیچھے نہیں ہٹی، انہوں نے اختر مینگل پر الزام لگایا کہ وہ خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ اختر مینگل بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں، پیپلز پارٹی نے ملک کی بقاء اور جمہوریت کے استحکام کے لیے شہدا کی قربانی دی جبکہ اختر مینگل صرف بزدلانہ سیاست کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے اختر مینگل دہشتگردوں کی پیپلز پارٹی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔