وائی فائی کا استعمال کافی عرصے سے دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے اور اس کے متبادل کے طور پر مختلف ٹیکنالوجیز پر کام کیا جا رہا ہے۔ان میں سے ایک لائٹ فیڈیلیٹی یا لائی فائی ہے۔

یہ نئی ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی دور سے گزر رہی ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ واقعی یہ وائی فائی کی جگہ لے سکتی ہے یا نہیں۔مگر اس پر کام مسلسل جاری ہے تو یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ اس کی خصوصیات کیا ہیں اور یہ کس حد تک محدود ہیں۔

لائی فائی کیا ہے؟وائی فائی میں انٹرنیٹ سروسز کے لئے ریڈیو سگنلز پر انحصار کیا جاتا ہے مگر لائی فائی روشنی کو ڈیٹا ٹرانسمیٹ کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔جی ہاں واقعی یہ ٹیکنالوجی روشنی سے پاور حاصل کرکے آپ کو انٹرنیٹ سے کنکٹ کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بظاہر لائی فائی کی رفتار وائی فائی کے مقابلے میں 100 گنا تیز ہوسکتی ہے۔لائی فائی پر تحقیق 2000 کی دہائی سے کی جا رہی ہے اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے ہیرالڈ ہاس نے اس ٹیکنالوجی کی ایجاد کی۔انہوں نے دریافت کیا تھا کہ روشنی کو ٹو وے ڈیٹا ٹرانسمیشن کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد فرانس کی ایک کمپنی Oledcomm نے 2008 میں لائی فائی پر تجربات شروع کئے۔

لائی فائی کیسے کام کرتی ہے؟لائی فائی ویزیبل لائٹ کمیونیکیشن سسٹم کے طور پر کام کرتی ہے۔لائی فائی میں ایل ای ڈی بلب کی روشنی کو ڈیٹا ٹرانسفر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس کی رفتار ریڈیو ویو سے کام کرنے والے وائی فائی کے مقابلے میں کئی گنا تیز ہوتی ہے۔اس عمل کو آنکھوں سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

تو انٹرنیٹ کے لئے اس ٹیکنالوجی کا مطلب کیا ہے؟وائی فائی پہلی بار 1996 میں سامنے آئی تھی اور گزشتہ چند برسوں میں وائی فائی 6، 6 ای اور اب وائی فائی 7 سٹینڈرڈ کو متعارف کرایا گیا ہے۔
لائی فائی ٹیکنالوجی وائی فائی کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتی ہے مگر سپیڈ ہی وائرلیس کنکشن کے لئے واحد عنصر نہیں۔لائی فائی گروپ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سکیورٹی کو بھی بہت زیادہ بہتر بناتی ہے۔
لائی فائی گروپ کے ایک ترجمان کے مطابق چونکہ لائی فائی کے سگنلز اس جگہ تک محدود ہوتے ہیں جہاں وہ بلب جگمگا رہے ہوتے ہیں اور روشنی دیواروں کے آرپار نہیں ہوتی تو اس تک غیر مجاز رسائی کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
تھیوری کے مطابق لائی فائی کی سپید 224000 میگا بٹس فی سیکنڈ تک پہنچ سکتی ہے جو کہ ورچوئل رئیلٹی، 4k سٹریمنگ اور آن لائن گیمز کے لئے بہترین ثابت ہوتی ہے جبکہ کم latency بھی اسے وائی فائی سے بہتر بناتی ہے۔اسی طرح چونکہ لائی فائی وائی فائی کی طرح ریڈیو فریکوئنسی پر انحصار نہیں کرتی تو آپ کا کنکشن الیکٹرو میگنیٹک مداخلت سے محفوظ رہتا ہے۔

لائی فائی ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات
یہ ٹیکنالوجی مکمل مثالی نہیں مگر اس کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں۔
فوائد:
رفتار: وائی فائی ریڈیو سگنلز کے مقابلے میں لائی فائی سے ڈیٹا زیادہ تیز رفتاری سے روشنی کے ذریعے ٹرانسمیٹ ہوتا ہے۔
توانائی کی بچت : لائی فائی سے توانائی کی زیادہ بچت ہوتی ہے کیونکہ یہ ایل ای ڈی بلب کے ذریعے کام کرتی ہے۔
سکیورٹی : لائی فائی ٹیکنالوجی سے ڈیٹا تک باہری عناصر کی رسائی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
دستیابی : روشنی کا استعمال ہر جگہ کیا جاتا ہے تو انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں۔
نقصانات
محدود رینج : آپ کا کنکشن بند مقامات تک محدود ہوتا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی روشنی پر انحصار کرتی ہے، بڑی جگہوں یا دفاتر میں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
نئی ٹیکنالوجی : یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے کام کرنے والی ڈیوائسز کی تعداد بھی محدود ہوگی۔
روشنی پر انحصار : چونکہ اس ٹیکنالوجی پر روشنی پر انحصار کیا جاتا ہے تو اگر بجلی بند ہو جائے تو اس کا کام کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا یا بلب خراب ہو جائے تو بھی اس مسئلے کا سامنا ہوگا۔
تو یہ کب تک دستیاب ہوسکتی ہے؟ابھی لائی فائی ٹیکنالوجی تحقیقی مراحل سے گزر رہی ہے اور اسے مکمل طور پر متعارف کرانے کے لئے کچھ وقت لگ سکتا ہے۔Oledcomm کی پیشگوئی ہے کہ لائی فائی کی کمرشل دستیابی 2024 سے 2029 کے درمیان کسی بھی وقت ممکن ہوسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: لائی فائی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں یہ ٹیکنالوجی اس ٹیکنالوجی لائی فائی کی کیا جاتا ہے وائی فائی کے لئے اس کرتی ہے فائی سے فائی کے ہوتا ہے ہوتی ہے کیا جا ہے اور

پڑھیں:

کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟