عمان کے سفیر کی پاک اور عمان دوستانہ ہاکی میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم آمد،صدر اسلام آباد ہاکی ایسوسی ایشن چوہدری عنصر فاروق اور دیگر نے سفیر کا استقبال کیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
عمان کے سفیر کی پاک اور عمان دوستانہ ہاکی میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم آمد،صدر اسلام آباد ہاکی ایسوسی ایشن چوہدری عنصر فاروق اور دیگر نے سفیر کا استقبال کیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان میں عمان کے سفیر فہد سلیمان خلف الخروسی کی پاک اور عمان کی ہاکی ٹیموں کے درمیان دوستانہ میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم آمد، اسلام آباد ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری عنصر فاروق اور سیکرٹری جنرل ہاکی فیڈریشن پاکستان اولمپئن رانا مجاہد نے معزز سفیر کا استقبال کیا۔
تفصیلات کے مطابق سپورٹس کمپلیکس میں پاکستان اور عمان کی ہاکی ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے دوستانہ میچ کو دیکھنے کیلئے عمان کے سفیر فہد سلیمان خلف الخروسی بھی اسٹیڈیم تشریف لائے۔ اس موقع پر اسلام آباد ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری عنصر فاروق اور سیکرٹری جنرل ہاکی فیڈریشن پاکستان اولمپئن رانا مجاہد نے معزز سفیر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان ہاکی کے کھیل میں تعاون بڑھانے سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہاکی ایسوسی ایشن چوہدری عنصر فاروق اور سفیر کا استقبال کیا دیکھنے کیلئے عمان کے سفیر اور عمان
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔