میرا نام ہے فلسطین، میں مٹنے والا نہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: فلسطین کی تاریخ ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا استعارہ اور ایک ایسی قوم کی کہانی جو صدیوں سے اپنی شناخت اور زمین کے تحفظ کے لیے لڑ رہی ہے۔ لاکھوں فلسطینی آج بھی جلاوطنی، محاصرے، اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں مگر ان کا عزم کمزور نہیں ہوا۔ فلسطین ایک خطہ نہیں, انصاف کے لئے انسانیت کی اجتماعی آزمائش ہے.
فلسطین، ایک ایسا نام جو سننے والے کے ذہن میں قدیم تہذیبوں کی خوشبو، روحانی ورثے کی گونج اور ایک مظلوم قوم کی جدوجہدِ آزادی کی طویل داستان کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہ محض ایک خطۂ زمین نہیں بلکہ ایک تہذیبی وراثت، ایک قومی شناخت اور ایک ناقابلِ تسخیر عزم کی علامت ہے۔ فلسطین کا شمار دنیا کے ان قدیم ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی تہذیب نے بہت ابتدا میں قدم جمائے۔ آثارِ قدیمہ اور تاریخی روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں سب سے پہلے کنعانی قوم نے سکونت اختیار کی، جو سامی نسل سے تعلق رکھتی تھی۔
کنعانیوں نے زراعت، تعمیرات، تجارت اور مذہبی نظام میں خاصی ترقی کی اور فلسطین کو ایک تہذیبی اور اقتصادی مرکز بنایا۔ ان کے بعد یبوسی، اموری اور دیگر اقوام نے اس خطے کو اپنا وطن بنایا۔ بعد ازاں یہ خطہ مصری، بابلی اور سمیری تہذیبوں کے زیرِ اثر رہا۔ بعد کے ادوار میں یہی سرزمین انبیائے کرامؑ جیسے حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے پیغام کی آماجگاہ بنی، جس نے اس کی روحانی حیثیت کو مزید بلند کیا۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم فلسطین کی تاریخی ارتقا سے لے کر موجودہ سیاسی و انسانی بحران تک کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ پیش کریں گے۔
قدیم فلسطین: کنعان سے اسلامی فتوحات تک
فلسطین کی قدیم تاریخ کا آغاز کنعانیوں سے ہوتا ہے، جنہوں نے یہاں اولین شہر آباد کئے۔ ان میں یروشلم (جسے اس وقت یبوس کہا جاتا تھا) خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بعد ازاں بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں اس سرزمین میں قدم رکھا۔ یہودی روایات کے مطابق یہ خطہ انہیں الٰہی وعدے کے تحت عطا کیا گیا، تاہم تاریخی طور پر یہ علاقہ مختلف اقوام کے درمیان مسلسل تنازعات کا مرکز رہا۔ رومی دور میں یہودیوں کو بغاوت کے بعد جلاوطن کر دیا گیا اور یروشلم کو عیسائیت کا مرکز بنا دیا گیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں نے دوسرے خلیفہ کی خلافت کے دور میں اس خطے کو فتح کیا۔ مسجد اقصیٰ، جو پہلے سے ایک مقدس مقام تھی، اسلامی تاریخ کا تیسرا مقدس ترین مقام قرار پائی۔ صلیبی جنگوں کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے یروشلم کو دوبارہ اسلامی ریاست میں شامل کیا۔ 1517ء سے 1917ء تک فلسطین عثمانی سلطنت کے زیرِ انتظام رہا، جس نے یہاں امن، رواداری، اور کثیرالمذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔
برطانوی استعمار اور صیہونی تحریک کا آغاز
پہلی عالمی جنگ کے بعد عثمانی سلطنت کے انہدام کے ساتھ ہی فلسطین برطانوی انتداب کے تحت آ گیا۔ 1917ء میں برطانوی حکومت نے اعلانِ بالفور کے ذریعے یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک "قومی وطن" کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ اعلان صیہونی تحریک کی سیاسی کامیابی تھا، جس نے یورپ سے یہودی آبادکاری کے دروازے کھول دیے۔ اس آبادکاری نے مقامی عرب آبادی کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی خطرے میں ڈال دیا، جس کے نتیجے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔
1948ء کا المیہ: اسرائیل کا قیام اور النکبہ
1947ء میں اقوامِ متحدہ نے فلسطین کو ایک یہودی اور ایک عرب ریاست میں تقسیم کرنے کی قرارداد منظور کی مگر فلسطینیوں اور عرب ریاستوں نے اسے غاصبانہ سمجھ کر مسترد کر دیا۔ 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کے فوراً بعد عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اسرائیل نے 78 فیصد فلسطینی سرزمین پر قبضہ کر لیا اور سات لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔ یہ جبری ہجرت تاریخ میں النکبہ (یعنی المیہ) کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔
1967ء کی جنگ: قبضے کا نیا باب
جون 1967ء کی 6 روزہ جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ کی پٹی، گولان کی پہاڑیاں، اور سینائی کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو نیا رخ دیا۔ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) نے یاسر عرفات کی قیادت میں مزاحمت کو منظم کیا، اور مسلح جدوجہد کو اپنایا۔ 1987ء میں حماس نے پہلی انتفاضہ کے دوران مزاحمت کی عوامی لہر کو جنم دیا، جس نے فلسطینی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ یہ بتایا کہ بے سر و سامانی کے با وجود فلسطینی اپنے حقوق کیلئے لڑ سکتے ہیں اور پھر 2000ء کے دوسرے انتفاضہ نے مزاحمت کو نئی جہت دی
اوسلو معاہدہ: دھوکہ یا امید؟
1993ء میں اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی قائم کی گئی، جسے بعض علاقوں میں محدود خودمختاری دی گئی۔ اگرچہ اس معاہدے سے امن کی امیدیں وابستہ کی گئیں مگر اسرائیل نے مشرقی یروشلم، غیر قانونی یہودی آبادکاری اور فوجی نگرانی جیسے حساس امور پر اپنا قبضہ برقرار رکھا غزہ کو جیل بنا دیا گیا بلکہ 2006ء میں حماس کی انتخابی فتح کے بعد غزہ پر اسرائیلی محاصرہ عائد کر دیا گیا، جس نے انسانی المیے کو جنم دیا۔
2023ء کے حالات: ظلم، محاصرہ اور مزاحمت تا حال جاری
2023ء میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر شدید فضائی حملے، مسجد اقصیٰ پر چھاپے، اور مغربی کنارے میں صیہونی آبادکاروں کے مظالم جاری رہے۔ اکتوبر 2023ء میں حماس نے آپریشن طوفان الاقصی لانچ کیا اور اس کے بعد سے اسرائیل و حماس کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی حالات بگڑتے چلے گئے اسرائیل نے وسیع پیمانے پر بے گناہ انسانوں کا قتل عام شروع کردیا۔ بوڑھے، بچے، خواتین، صحافی، ڈاکٹرز ہر طبقے کے افراد کو اپنی بندوق اور میزائل سے شکار کیا، یہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ امریکہ کی مدد کے ساتھ تا حال جاری ہے۔
درجنوں اسپتال، اسکول اور پناہ گاہیں تباہ ہوئیں، اور سینکڑوں معصوم فلسطینی، بالخصوص بچے اور خواتین، شہید ہوئے۔ عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے لیکن اقوامِ متحدہ اور بڑی طاقتوں کی خاموشی نے فلسطینیوں کو مزید مایوس کیا ہے۔ دنیا کے منافقانہ رویہ یعنی امریکہ و یورپ کی غیر مشروط حمایت، عرب لیگ کی خاموشی و دوغلی پالیسی اور اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ بے عملی فلسطین میں انسانی المیہ کو جنم دینے میں ملوث ہیں.
فلسطینی شناخت: مزاحمت کا استعارہ
فلسطین آج بھی ظلم کے خلاف مزاحمت کی ایک شناخت، ایک خواب اور ایک استعارہ ہے۔ فلسطینی قوم آج بھی "میرا نام ہے فلسطین" کے نعرے کے ساتھ اپنی زمین، ثقافت اور مقدس مقامات کے دفاع میں ڈٹی ہوئی ہے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ نے 2012ء میں فلسطین کو "غیر رکن مبصر ریاست" کا درجہ دیا، مگر تاحال دو ریاستی حل کا عملی نفاذ ایک جھوٹ ہی ہے اور فلسطین تو دراصل پورے کا پورا ہی (نہر تا بحر) فلسطینیوں کا ہے۔
ایک زندہ، سلگتی تاریخ
فلسطین زندہ باد جیسا کہ محمود درویش نے کہا کہ ’’ہم اس سر زمین پر مریں گے، ہماری جڑیں اتنی گہری ہیں کہ کوئی ہمیں اکھاڑ نہیں سکتا‘‘۔ فلسطین کی تاریخ ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا استعارہ اور ایک ایسی قوم کی کہانی جو صدیوں سے اپنی شناخت اور زمین کے تحفظ کے لیے لڑ رہی ہے۔ لاکھوں فلسطینی آج بھی جلاوطنی، محاصرے، اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں مگر ان کا عزم کمزور نہیں ہوا۔ فلسطین ایک خطہ نہیں, انصاف کے لئے انسانیت کی اجتماعی آزمائش ہے. جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، دنیا کے ضمیر پر ایک داغ رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل نے فلسطین کی نے فلسطین اور ایک دنیا کے دیا گیا کے ساتھ کر دیا آج بھی کے بعد
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو