Express News:
2026-07-24@01:46:10 GMT

امریکی کانگریس کے وفد کی اہم ملاقاتیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT

امریکی کانگریس کا ایک تین رکنی وفد آج کل پاکستان کے دورہ پر ہے۔اس دورہ کے حوالے سے پہلے تحریک انصاف میں بہت جوش و خروش تھا۔یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ امریکا میں مقیم تحریک انصاف کے دوست ہی ان کانگریس مین کو پاکستان بھیج رہے ہیں۔ ایسا تاثر دیا جا رہا تھا کہ ان کانگریس مینز کا وفد پاکستان پہنچ ہی تحریک انصاف کی مدد کے لیے رہا ہے۔

ہمیں تو یہی بتایا جا رہا تھا کہ اس وفد کو ایسے ہی سمجھیں جیسے ٹرمپ خود آرہے ہیں۔ یہ وفد پاکستان کی سیاست میں ایک طوفان لے آئے گا اور اسٹبلشمنٹ کے لیے مسائل پیدا کر دے گا۔ پہلے تو یہ تاثر تھا کہ کانگریس کا یہ وفد پاکستان پہنچتے ہی سب سے پہلے اڈیالہ میں قید بانی تحریک انصاف کو ملنے پہنچ جائے گا بعد میں تحریک انصاف کی قیادت سے ملے گا۔ پھر بانی تحریک انصا ف کی بہنوں سے ملے گا۔ پھر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ سے ملے گا۔ وہ پاکستان کے بارے میں جو بتائیں گے اس کے بعد اس پر پاکستانی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی باز پرس کرے گا۔ اس لیے تحریک انصاف امریکا نے کانگریس کے اس وفد کے دورہ کی اہمیت پر زور دیا تھا اور اس سے بہت سے امیدیں بھی باندھ لی تھیں۔

لیکن کھیل تو بدل گیا۔ بقول تحریک انصاف کے جس وفد کو انھوں نے پاکستان بھجوایا تھا وہ تو اڈیالہ نہیں گیا ہے اور اس نے اڈیالہ جانے کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا ہے۔ یہ وفد تو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو مل رہا ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کو مل رہا ہے، حکومتی نمایندوں کو مل رہا ہے۔

سب سے زیادہ تو اس نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کر لی ہے۔ ابھی یہ وفد پاکستان میں ہے اس کی مزید ملاقاتیں ہونی ہیں۔ لیکن ابھی تک دورے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ تو پاکستانی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ وفد پاکستان اور امریکا کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے دورے پر ہے۔ حالانکہ تاثر تو یہ بنایا گیا تھا کہ یہ تحریک انصاف کے ایجنڈے پر پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

ابھی کی صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے امریکا میں مقیم دوست سوشل میڈیا پر ان کانگریس مینز سے اپیلیں کر رہے ہیں کہ آپ اڈیالہ جائیں، آپ علیمہ خان سے ملیں۔ لیکن تادم گفتگو مجھے ایسی کسی ملاقات کا کوئی علم نہیں اور نہ تحریک انصاف پاکستان ہی ایسی کسی ملاقات کی تصدیق کر رہی ہے۔ البتہ سوشل میڈیا پر اپیلوں کا ایک چکر چل رہا ہے۔

بیرسٹر شہزاد اکبر نے لندن بیٹھ کر تحریک انصاف امریکا کے دوستوں کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اور ان کا موقف ہے کہ کھیر بے شک تحریک انصاف امریکا نے پکائی تھی لیکن کھا اسٹبلشمنٹ گئی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تحریک انصاف امریکا کے دوستوں میں ایسے غدار ہیں جنھوں نے اس وفد کی آرمی چیف سے ملاقات کی راہ ہموار کی ہے اور ان کے مطابق یہ تحریک انصاف کی ایک بڑی ناکامی ہے۔ ان کے مطابق اب کھیل ہاتھ سے نکل بھی رہا ہے اور جدوجہد لمبی بھی ہو گئی ہے اب جلدی کچھ ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔

ایک بات اور سمجھیں کانگریس مینز کا یہ وفد کوئی امریکی حکومت کا وفدنہ ٹرمپ کے نمایندے ہیں، یہ کوئی امریکی انتظامیہ کے نمایندے نہیں۔ ان کا امریکی حکومت میں کوئی کردار نہیں۔ یہ کانگریس مین اپنے طور پر پاکستان کے دورے پر ہیں اور ان کے دورے کا امریکی پالیسی پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ البتہ یہ امریکی کانگریس میں پاکستان کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تحریک انصاف کا یہی پراپیگنڈا تھا کہ اس وقت ایک امریکی کانگریس مین نے پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ کے نام سے ایک بل جو تجویز کیا ہوا ہے۔ یہ کانگریس مینز اس بل کی کامیابی میں کردار ادا کریں گے اورکانگریس مینز کے اس وفد سے اس بل کی راہ ہموار ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوا ہے، یہ سب پراپیگنڈا ثابت ہوا ہے۔  یہ دورہ ابھی تک سفارتی پروٹوکول کے مطابق ہی چل رہا ہے ا ور اس میں سفارتی آداب کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے۔ اس لیے مجھے تو اس دورے کے نتائج پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اور حکومت کے حق میں نظر آرہے ہیں۔

جب سے ٹرمپ کی حکو مت آئی ہے اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔پہلے ٹرمپ نے اپنے صدارتی خطاب میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ جب کہ ماحول تو یہ بنایا گیا تھا کہ ٹرمپ تب تک پاکستان میں کسی سے بات نہیں کریں گے جب تک بانی تحریک انصاف اقتدار میں نہ آجائیں گے۔

ماحول تو یہ تھا کہ ٹرمپ آئے گا تو تحریک انصاف بھی آجائے گی۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہو گیا۔ پہلے صدارتی خطاب میں شکریہ، پھر منرلز کانفرنس میں اعلیٰ سطح کے وفد کی آمد، ٹرمپ کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ۔اب اس وفد کی آرمی چیف سے ملاقات سب اشارے تو اس حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے حق میں جا رہے ہیں۔ رچرڈ گرنیل بھی خاموش ہو گئے ہیں۔ اب صرف جو ولسن رہ گئے ہیں۔ جو کانگریس کے اس وفد میں شامل نہیں ہیں۔

اوور سیز کنونشن کو بھی اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ بھی پوری دنیا کو پیغام ہے کہ اوور سیز پاکستانی بھی اس حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ کنونشن بھی اس ساری پراپیگنڈے کو ختم کرے گا۔ جس میں یہ تاثر پیدا کیاجا رہا تھا کہ اوورسیز تو سارے تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ لیکن اب تو ایک بڑی اکثریت حکومت کی حامی بھی سامنے آئی ہے۔

اس کا بھی بیرونی دنیا پر اثر ہوگا اور پاکستان کی حکومت کے مخالف کام کرنے والی لابی کو نقصان پہنچے گا۔ آرمی چیف کی کانگریس مینز سے ملاقات پر تحریک انصاف کے اندر ایک صدمہ کی کیفیت ہے۔ان کا دکھ شدید ہے، وہ ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں۔ اس کا ایک دوسرے کو ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں، اسے اپنی بڑی ناکامی تصور کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے دوست بھول گئے تھے کہ تعلقات حکومتوں کے ہوتے ہیں، تعلقات ممالک کے ہوتے ہیں، تعلقات ریاست کے ریاست کے ساتھ ہوتے ہیں، اداروں کے اداروں کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں۔ یہی نظر آرہا ہے۔ باقی سب شور تھا۔ اور کچھ بھی نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکومت اور اسٹبلشمنٹ تحریک انصاف امریکا اور اسٹبلشمنٹ کے امریکی کانگریس تحریک انصاف کے یہ وفد پاکستان کانگریس مینز کی کانگریس پاکستان کے سے ملاقات امریکا کے ا رمی چیف ا رہے ہیں ہوتے ہیں وفد کی ا کے ساتھ اس وفد رہا ہے جا رہا تھا کہ

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل