مستونگ: بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی کے قریب دھماکا، 3 اہلکار جاں بحق، 16 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
مستونگ: بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی کے قریب دھماکا، 3 اہلکار جاں بحق، 16 زخمی WhatsAppFacebookTwitter 0 15 April, 2025 سب نیوز
کوئٹہ (آئی پی ایس) بلوچستان کے علاقے مستونگ میں بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا ہے جس میں 3 اہلکار جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوگئے ہیں۔
دھماکا مستونگ کے دشت روڈ پر کھنڈ مہسوری کے قریب اس وقت ہوا جب بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار ڈیوٹی سے واپس جارہے تھے۔
لیویز حکام کے مطابق دھماکا موٹرسائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بارودی مواد سے کیا گیا۔
حکام کے مطابق واقعے کے بعد فورسز کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور جاں بحق اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کو غوث بخش رئیسانی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلوچستان کانسٹیبلری کے قریب
پڑھیں:
سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) سیکریٹریٹ نے چینی شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 95 ملین (9 کروڑ 50 لاکھ) روپے کی لاگت سے ایک بلٹ پروف گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق کابینہ ڈویژن اس کی فوری ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھی جس کی وجہ سے اہم سرکاری مصروفیات منسوخ کرنا پڑیں۔
یہ نئی ٹویوٹا لینڈ کروزر 3500 سی سی گاڑی پہلے سے موجود ایسی گاڑیوں کے پول اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جو مختلف سرکاری محکموں نے حملوں کی زد میں آنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے یا تو خریدی ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔ زیادہ خطرات کی وجہ سے چینی شہریوں کو بغیر بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ بلٹ پروف گاڑی صرف چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خریدی جا رہی ہے، جن کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن کا بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس، ملک بھر میں 46 ایمرجنسی رسپانس سینٹرز قائم
حکومت پبلک پروکیورمنٹ رولز کے رول 42-سی (vii) کا نفاذ کرتے ہوئے مقامی اسمبلر کے ڈیلر سے براہ راست معاہدے کے ذریعے یہ گاڑی خریدے گی۔سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی خریدنے کے لیے مطلوبہ فنڈز موجود نہیں تھے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 58.3 ملین روپے منتقل کرکے 30 جون تک آرڈر دینے کا انتظام کیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوریوں میں تاخیر کی وجہ سے آرڈر نہیں دیا جا سکا۔
مزید :