آئی ایم ایف کا عدالتی کارکردگی پر خدشات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
معاہدوں کے نفاذ، جائیداد کے حقوق کے تحفظ، بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکن معاملات پر تحفظات
پاکستان میں موجود آئی ایم ایف مشن نے جائزہ مکمل کرلیا ،رپورٹ جولائی میں جاری کردی جائے گی
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے عدالتی کارکردگی سمیت معاہدوں کے نفاذ، جائیداد کے حقوق کے تحفظ سمیت بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنے والے معاملات پر خدشات کا اظہار کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں موجود آئی ایم ایف مشن نے اہم ملاقاتیں کی ہیں اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں روف عطا، صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار میر عطااللہ لانگو اور صدر سندھ ہائی کورٹ بار بیرسٹر سرفراز میتلو کی بیٹھک لگی۔اعلامیے کے مطابق ملاقات عدالتی کارکردگی جیسے امور پر بات چیت کی گئی، آئی ایم ایف مشن نے عدالتی کارکردگی سمیت معاہدوں کے نفاذ، جائیداد کے حقوق کے تحفظ سمیت بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنے والے معاملات پر خدشات کا اظہار کر دیا ہے ۔صدر سپریم کورٹ بار نے آئی ایم ایف مشن کو عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کی کوششوں، قانون سازی اور ویڈیو لنک سہولت سمیت دیگر اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان بھی بہتری کے لیے ای-فائلنگ سسٹم جیسے اقدامات کر رہے ہیں۔آئی ایم مشن کو بتایا گیا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کا مقصد عدالتی خودمختاری بہتر بنانا ہے ، اس کے علاوہ ججوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ادارہ جاتی نظام بھی موجود ہے ۔ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ مسائل کا حل سیاسی اور اقتصادی استحکام اور بہتر طرز حکمرانی سے ہی ممکن ہے ۔اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف مشن ایک سوالنامہ بھی ایسوسی ایشن کو بھیجے گا، جس کے جواب میں تفصیلی جوابات، تجاویز اور سفارشات دی جائیں گی۔آئی ایم ایف وفد کابینہ ڈویژن حکام سے ملا، کرپشن کے خاتمے اور استعداد کار بڑھانے پر بات ہوئی، مشن کے تیکنیکی وفد کی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام سے بیٹھک میں ریونیو موبلائزیشن انیشیٹیو، ٹیکس نیٹ اور وصولیاں بڑھانے ، نئے شعبے ٹیکس نیٹ میں لانے پر بات ہوئی۔مزید بتایا گیا کہ مشن نے جائزے سے متعلق اپنا کام بھی مکمل کرلیا ہے اور اس کی رپورٹ جولائی میں جاری کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عدالتی کارکردگی آئی ایم ایف مشن کورٹ بار
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔