لاہور سمیت پنجاب سے 10 ہزار 379 افغانیوں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
مہم کے دوران 11 ہزار سے زائد غیرقانونی مقیم باشندوں کو ہولڈنگ سنٹرز پہنچایا جا چکا ہے جبکہ 656 غیر قانونی مقیم افراد ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ لاہور میں 05 اور صوبہ بھر میں 46 ہولڈنگ سنٹرز قائم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب پولیس کی غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کی مہم جاری ہے، جس کے تسلسل میں لاہور سمیت صوبہ بھر سے ڈی پورٹ کئے گئے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کی تعداد 10 ہزار 379 ہو چکی ہے۔ مہم کے دوران 11 ہزار سے زائد غیرقانونی مقیم باشندوں کو ہولڈنگ سنٹرز پہنچایا جا چکا ہے جبکہ 656 غیر قانونی مقیم افراد ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ لاہور میں 05 اور صوبہ بھر میں 46 ہولڈنگ سنٹرز قائم ہیں۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح انٹرنیشنل قوانین کے تحت ڈی پورٹیشن پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ تمام غیر قانونی مقیم شہریوں کا انخلا یقینی بنا رہے ہیں اور سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ انخلا کے عمل کے دوران انسانی حقوق کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عثمان انور نے سی سی پی او لاہور، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی تارکین کے انخلا کے عمل میں تیزی لائیں، انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن کے ذریعے غیر قانونی مقیم غیرملکیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہولڈنگ سنٹرز
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔