کراچی، قلات، خضدار اور کوئٹہ شاہراہ منصوبہ اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کریں گے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہےکہ اسلام آباد میں توسیع و تزین کے وسیع و عریض منصوبے جاری ہیں، ٹریفک کےبہاؤ میں بہتری آچکی ہے، بہترین اقدامات کے لیے محسن نقوی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اسلام آباد میں جناح اسکوائر انڈرپاس کے سنگ بنیاد کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا ٹریک 2 ہزار کے قریب جانیں نگل چکا ہ، بلوچستان کی اس سڑک کو جسے خونی ٹریک بھی کہا جاتا ہے، ہائی وے بنانے جارہے ہیں ، اس کی کوالٹی موٹر وے جیسی ہوگی ، 2 سال میں 300 ارب سے زائد کے تخمینے سے شاہراہ تعمیر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سڑکوں کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے تنگ نظر ہیں۔ کراچی، قلات، خضدار اور کوئٹہ شاہراہ منصوبہ اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کریں گے۔
حکمرانوں کے معیشت کی ترقی کے دعوے کھوکھلے ہیں:جمشید اقبال چیمہ
شہباز شریف نےکہا کہ بلوچستان کےعوام کو ایسا منصوبہ چاہیے تھا جو تمام اقوام کےدل کی آواز ہو، این ایف سی میں بھی بلوچستان کاکوٹا ڈبل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا حکومت اور مسلح افواج کا وژن ہے ، ٹیم ورک سے ملکی معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اب ہم ترقی و خوش حالی کے سفر پر گامزن ہیں، بہترین کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی سطح پر درجہ بندی میں بہتری آئی، پاکستان کی تکمیل تمام اکائیوں سے ہوتی ہے۔
بائیومیٹرک کروانے کی ڈیڈلائن، عازمین حج کیلئے اہم خبر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔