پارک ویو سٹی اسلام آباد: رہائشیوں کا شدید احتجاج، اضافی چارجز اور ناقص سہولیات پر برہمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز) پارک ویو سٹی اسلام آباد کے رہائشیوں نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام واجبات ادا کرنے کے باوجود نہ صرف پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں تاخیر کا سامنا کیا بلکہ اب اضافی ترقیاتی چارجز کے نام پر بھاری رقوم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
رہائشیوں کے مطابق، سوسائٹی نے پانچ مرلہ کے پلاٹ مالکان سے پانچ لاکھ روپے اور دس مرلہ کے پلاٹ مالکان سے دس لاکھ روپے اضافی چارجز کا مطالبہ کیا ہے، اور 15 مئی تک ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں رقم دگنی کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ تمام تر چارجز اُس وقت مانگے جا رہے ہیں جب رہائشی پہلے ہی ترقیاتی اور پوزیشن چارجز ادا کر چکے ہیں اور اپنے گھروں کی تعمیر مکمل کر چکے ہیں۔
اوورسیز بلاک کے رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ وہاں نہ تو اسکول ہے، نہ مسجد، نہ ہی مارکیٹ، اور سوسائٹی کا یہ حصہ ویران قبرستان کی مانند لگتا ہے۔ مزید برآں، بجلی کے بلوں میں بھی جعلسازی کی جا رہی ہے؛ بلوں پر نہ میٹر ریڈنگ ہے، نہ میٹر کی تصویر، اور نہ ہی استعمال شدہ یونٹس کی تفصیل، صرف رقم لکھ کر بل تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سوسائٹی نے پی ایس ایل کی اسپانسرشپ کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں، لیکن بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور رہائشیوں کو انصاف فراہم کریں۔
واضح رہے کہ پارک ویو سٹی اسلام آباد کو ماضی میں سی ڈی اے نے این او سی جاری کیا تھا، تاہم بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ این او سی منسوخ کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں، سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے سی ڈی اے نے پارک ویو سٹی کا این او سی بحال کر دیا تھا۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اب مزید ظلم اور غنڈہ گردی برداشت نہیں کریں گے اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
ٹک ٹاکر سجل ملک کی بھی مبینہ’متنازعہ‘ ویڈیو لیک ؟ سوشل میڈیا صارفین برہم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: رہائشیوں کا اسلام آباد
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔