سندھ اعلی تعلیمی کمیشن نے پرفیسر سروش لودھی کو چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کا چیئرمین منتخب کردیا۔

 یہ انتخاب کمیشن کے تحت حال ہی میں منعقدہ سلیکشن بورڈ میں ہوا ہے جس کے بعد ڈاکٹر سروش لودھی کی تقرری کے سلسلے میں این او سی کے حصول کے لیے متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو خط لکھ دیا گیا یے۔

ہوم ڈپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق ایک ادارے سے کلیئرنس بھی موصول ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی سندھ میں نجی جامعات و اسناد تفویض کرنے والے اداروں(ڈگری ایوارڈنگ) کو چارٹر تفویض کرنے اور ان کی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کی ذمے دار رہی ہے جبکہ کچھ عرصے قبل جب اس کمیٹی کو سندھ ایچ ای سی کے ماتحت کیا گیا تو کمیٹی کے تحت اب نجی کے ساتھ ساتھ سرکاری جامعات کی مانیٹرنگ بھی شروع کردی ہے۔

سابق وائس چانسلر لیاقت میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر نوشاد شیخ کچھ عرصے اس کے قائم مقام چیئرمین رہے جس کے بعد سے یہ عہدہ تاحال خالی رہا اور اب اشتہار کے بعد انٹرویوز کے ذریعے جن امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا ان میں پروفیسر سروش لودھی پہلے اور ڈاکٹر فتح مری دوسرے نمبر پر تھے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر سروش لودھی حال ہی میں این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں جس سلیکشن بورڈ کے ذریعے ان کا انتخاب کیا گیا ہے اس میں کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع، سیکریٹری معین صدیقی، کمیشن کے اراکین، نمایندہ ایس ین جی ڈی اے اور محکمہ فنانس شامل تھا۔

واضح رہے کہ سیکیورٹی اداروں سے این او سی موصول ہونے کی صورت میں ایچ ای سی کمیشن کی منظوری سے اس فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سروش لودھی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف