میرا ہدف پاکستان کے لیے دوبارہ اور طویل مدت کے لیے کھیلنا ہے: صاحبزادہ فرحان
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ 10 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں شامل صاحبزادہ فرحان کا کہنا ہے کہ میرا ہدف پاکستان کے لیے دوبارہ اور طویل مدت کے لیے کھیلنا ہے۔ایک انٹرویو میں صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ جب بھی موقع ملے لانگ ٹرم کھیلنا ہے، یہ نہیں کہ ایک دو میچز کھیلوں باہر ہوجاؤں، پاکستان میں اوپنرز میں کافی مقابلہ ہے، مناسب چانس ملنا ضروری ہے، انٹرنیشنل کرکٹ میں کافی پریشر ہوتا ہے، دو تین میچز میں کسی پلیئر کو جج نہیں کرسکتے۔صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کے ابتدا میں سنچری کرکے مجھے بہت اعتماد ملا تھا، نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں ٹاپ کرنے کا ارادہ تھا تاکہ پی ایس ایل کے لیے توجہ حاصل کروں، نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں تین سنچریوں کے بعد 2 پچاس بھی کیے تھے، خوشی ہے کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کی فارم پی ایس ایل میں بھی جاری رہے۔صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ بطور پلیئر آپ کو کبھی بھی ریلیکس نہیں ہونا چاہیے، میں ایک دو اننگز کھیل کر مطمئن نہیں ہوسکتا، کوشش ہوگی کہ پی ایس ایل میں ایک دو سنچریاں اور کروں تاکہ ریکارڈ بھی بنے اور ٹیم کو بھی فائدہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے، پہلے جب پی ایس ایل میں پک نہیں ہو اتھا تو مایوس ہونے کے بجائے محنت کی، ہمشیہ ہر ٹورنامنٹ میں ٹاپ کرنا میری عادت ہے، چاہے عام ٹورنامنت ہو یا بڑا ٹورنامنٹ،کوشش ہوگی کہ پاکستان سپر لیگ کے دسویں ایڈیشن میں بھی ٹاپ بیٹر بنوں۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ لوگ ہمیشہ مجھے کہتے تھیکہ میں صروف ڈومیسٹک کا پرفارمر ہوں، پی ایس ایل میں رنز کرکے ان کو غلط ثابت کیا، پاکستان سپر لیگ بڑی لیگ ہے، یہاں اسکور کریں تو انٹرنیشنشل کرکٹ میں آسانی ہوجاتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی ٹوئنٹی میں بیٹر کے لیے اس کی طے پوزیشن پر ہی بیٹگ کرنا کافی اہم ہوتا ہے جب کہ ون ڈے اور ٹیسٹ میں وقت ہوتا ہے تو بیٹر کے پاس ایڈجسٹ ہونیکا وقت ہوتا ہے، خواہش ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں اوپننگ کے نمبر پر ہی بیٹنگ کروں۔صاحبزادہ فرحان نے بتایا کہ ابھی میرا پورا فوکس پاکستان سپر لیگ پر ہی ہے، سلمان آغا کافی سپورٹ کر رہے ہیں، مجھے سلمان آغا نے پہلے میچ کے بعد ٹپس دیں اس سے مجھے اپنا بیلنس بہتر کرنے میں مدد ملی، مجھے پہلے آن سائیڈ پر مسئلہ تھا جس کو اب میں نے کافی بہتر کیا ہے اور اب اس پر اسکور کرہا ہوں، میری اکیڈمی کے کوچ نے بھی میرا کھیل بہتر کرنے میں مدد کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیشنل ٹی ٹوئنٹی پاکستان سپر لیگ کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں ٹی ٹوئنٹی میں ہوتا ہے کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔