اپنی نئی فلم ’ستارے زمین پر‘ کے بارے میں عامر خان کا اہم انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
بالی ووڈ کے "مسٹر پرفیکشنسٹ" ایک بار پھر منفرد اور جذباتی موضوع کے ساتھ بڑی اسکرین پر واپسی کے لیے کمر کس چکے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عامر خان کی نئی فلم ’’ستارے زمین پر‘‘ اپنے نام کے لحاظ سے تو مشہور فلم ’’تارے زمین پر‘‘ سے جڑی ہے لیکن اس کا موضوع یکسر مختلف ہے۔
فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ ستارے زمین پر ایک مکمل نیا تجربہ ثابت ہوگی اور یہ ’’تارے زمین پر‘ جیسی فلم نہیں ہوگی بلکہ اس سے آگے کی کہانی ہے۔
اداکار عامر خان نے حال ہی میں چین کے مکاؤ کامیڈی فیسٹیول میں شرکت کے دوران اپنی اس نئی فلم کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی۔
عامر خان نے انکشاف کیا کہ یہ فلم دراصل اسپینش فلم ’’چیمپئنز‘‘ کا بھارتی ری میک ہوگی جس میں مسٹر پرفیکشسنسٹ ایک بدتمیز اور خود پسند باسکٹ بال کوچ کا کردار نبھائیں گے۔
فلم ستارے زمین پر کا یہ کردار ’’گلشن‘‘ ہے جو تارے زمین پر کے ایک ٹیچر کے کردار سے مزاجاً اور عادتاً بالکل مختلف ہے۔
عامر خان نے بتایا کہ فلم میں اس جھگڑالو اور بدتمیز کوچ کو سدھارتے ہیں ڈاؤں سنڈروم اور آٹزم جیسی امراض میں مبتلا بچے جو ایک باسکٹ بال ٹیم کے کھلاڑی ہوتے ہیں۔
اداکار نے مزید بتایا کہ اس فلم میں کامیڈی بھی ملے گی۔ اگر تارے زمین پر نے آپ کو رلایا تھا تو ستارے زمین پر آپ کو ہنسائے گی۔
یعنی عامر خان کی یہ فلم مزاح کے انداز میں انسان کی اصلاح کا ایک پیغام دیتی ہے۔ فلم کے ہدایتکار آر ایس پراسانا ہیں اور عامر خان کے ساتھ مرکزی کردار میں جنیلیا ڈی سوزا جلوہ گر ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ستارے زمین پر تارے زمین پر
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔