سندھ اور پنجاب بارڈر پر کینالز کے خلاف دھرنا، 15 لاکھ ڈالرز کا مال خراب ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کے خلاف ہائی ویز پر ہونے والے دھرنوں کی وجہ سے 15 لاکھ ڈالر کے نقصان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب اور سندھ کے داخلی راستے پر جاری دھرنے کی وجہ سے ہائی ویز پر دھرنے سندھ کے داخلی راستے پر آلو کے 250 کنٹینرز پھنس گئے ہیں جس کی وجہ سے ایکسپورٹ کو بڑے چلینج کا سامنا ہے۔
دھرنے کی وجہ سے آلو کی ایکسپورٹ کے 250 کنٹینرز سندھ کے داخلی راستے پر پھنس گئے، جنہیں مشرق وسطی، مشرق بعید کے ملکوں میں ایکسپورٹ کرنا تھا۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آلو کو مخصوص درجہ حرارت پر رکھنے کیلیے جنریٹرز کی ضرورت ہوتی ہے اور گزشتہ دو روز سے دھرنے کی وجہ سے اب انتظامات ختم ہورہے ہیں، اگر کنٹینرز بندرگاہ نہ پہنچے تو تمام مال تلف ہونے کا خدشہ ہے جس سے ایکسپورٹرز کو 15 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوگا، اس کے علاوہ کسانوں کو بھی بڑا نقصان ہوگا۔
سبزی اور پھلوں کی ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد نے سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ کنٹرینرز کی بندگاہوں تک ترسیل کو ہرصورت یقینی بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی وجہ سے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔