وقف بورڈ قانون کو لیکر مجھے سپریم کورٹ پر بھروسہ ہے، ڈمپل یادو
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو مسائل سے بھڑکانا چاہتی ہے، بی جے پی فرقہ وارانہ سیاست کے ذریعے صرف اقتدار میں رہنے کیلئے کام کررہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے مین پوری سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے ساتھ ہی ڈمپل یادو نے وقف ایکٹ میں ترمیم پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ ڈمپل یادو نے بی جے پی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو مسائل سے بھڑکانا چاہتی ہے، آنے والے وقت میں بی جے پی فرقہ وارانہ سیاست کے ذریعے صرف اقتدار میں رہنے کے لئے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے چیزیں سامنے آرہی ہیں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی کے دور میں ملک کو نقصان ہورہا ہے، اب تو امریکہ بھی بار بار ہندوستان پر تنقید کررہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ملک بی جے پی کے دور میں پیچھے چلا گیا ہے۔
وقف بورڈ بل پر ڈمپل یادو نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ پر بھروسہ ہے۔ اس سے پہلے ڈمپل یادو نے بھی ریاستی حکومت پر زبانی حملہ کیا تھا اور کہا تھا کہ آج اترپردیش کھنڈر کا سا نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں روزگار نہیں ہے اور صحت کا نظام بھی بری حالت میں ہے، پورا تعلیمی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ کل سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیراعلٰی اکھلیش یادو پریاگ راج کے دورے پر تھے۔ اس دوران ان کی اہلیہ اور ممبر پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مہا کمبھ کے دوران انتظامات پر توجہ دینے کے بجائے حکومت نے تشہیر پر زیادہ توجہ دی، اس کے علاوہ ان کی طرف سے دی گئی تجاویز کو پارٹی نے نظرانداز کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈمپل یادو نے حکومت پر انہوں نے بی جے پی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔