نیو دہلی:

دہلی ہائی کورٹ نے روح افزا کے خلاف بھارتی یوگا گورو رام دیو کے 'شربت جہاد' والے تبصرے کو "ناقابل دفاع" قرار دے دیا۔

منگل کو دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس امیت بنسل نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ "یہ بیان عدالت کے ضمیر کیلئے ایک جھٹکا اور ناقابل دفاع ہے۔"

اس مہینے کے شروع میں رام دیو نے پتن جلی کے گلاب کے شربت کی تشہیر کے لئے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "ایک کمپنی جو شربت بیچ کر پیسہ کماتی ہے وہ مساجد اور مدارس کی تعمیر کرتی ہے لیکن اگر آپ پتن جلی کا شربت پیتے ہیں تو ہم گوروکول اور پتن جلی یونیورسٹی بنائیں گے۔"

واضح رہے کہ شربت روح افزا ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان اور بھارت میں انتہائی مقبول مشروب ہے جبکہ یوگا گرو رام دیو کی کمپنی ’پتنجلی‘ شربتِ گلاب بناتی ہے۔

پتنجلی کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو کے ساتھ یہ تحریر بھی ہے کہ ’شربت جہاد کے نام پر بیچے جا رہے ٹوائلٹ کلینر اور کولڈ ڈرنک کے زہر سے اپنے خاندان اور بچوں کو بچائیں۔ صرف پتنجلی کا شربت اور جوس ہی گھر میں لائیں۔‘

ان کے اس بیان کے بعد ہنگامہ کھڑا ہو گیا جس کے بعد رام دیو نے کہا کہ انہوں نے کسی برانڈ کا نام نہیں لیا تاہم روح افزا بنانے والی کمپنی ہمدرد نے رام دیو کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی جس میں ویڈیو کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کی استدعا کی گئی۔ 

ہمدرد کی جانب سے سینئر وکیل مکول روہاتگی نے کہا کہ یہ ایک چونکا دینے والا معاملہ ہے جو نہ صرف روح افزا کی مصنوعات کی توہین ہے بلکہ ایک "فرقہ وارانہ تقسیم" کا باعث بھی بن رہا ہے۔ روہاتگی نے رام دیو کی باتوں کو نفرت انگیز تقریر کے مترادف قرار دیا۔

پٹن جلی کے بارے میں روہاتگی نے کہا کہ یہ ایک معروف برانڈ ہے جو اپنی مصنوعات کو کسی اور برانڈ کو نیچا دکھا کر بیچ سکتا ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ روہاتگی نے پتن جلی کے بانیوں کی سابقہ کیس میں بھی نمائندگی کی تھی جب کورونا کے دوران پتن جلی نے کورونا کو ٹھیک کرنے والی دوا کا دعویٰ کیا تھا جس پر بھارتی طبی انجمن نے اعتراض کیا تھا۔

آج دہلی ہائی کورٹ میں رام دیو کے لیے پراکسی وکیل نے درخواست کی کہ وہ مرکزی وکیل کی غیر موجودگی کی وجہ سے کیس کا التوا چاہیں گے، جس پر جسٹس بنسل نے کہا کہ مرکزی وکیل کو دوپہر تک پیش ہونا چاہیے، ورنہ "بہت مضبوط حکم" جاری کیا جائے گا۔

بعد میں رام دیو کے وکیل راجیو نایر عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ رام دیو ہمدرد کے خلاف اشتہارات واپس لے رہے ہیں۔ 

عدالت نے حکم دیا کہ رام دیو ایک حلف نامہ داخل کریں جس میں کہا جائے کہ وہ ہمدرد کی مصنوعات سے متعلق کوئی بھی بیان، اشتہار یا سوشل میڈیا پوسٹ نہیں کریں گے جس سے ہمدرد کو نقصان پہنچے۔

عدالت نے رام دیو کو ایک ہفتے کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا اور معاملے کو یکم مئی کے لیے مقرر کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رام دیو کے نے کہا کہ روح افزا پتن جلی

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم