آئی پی ایل میں ایک بار پھر میچ فکسنگ کا الزام، بھارت کے اندر سے ہی آوازیں اٹھنا شروع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پپی ایل) کے دوران راجستھان رائلز کی لکھنو سپر جائینٹس کے ہاتھوں محض 2 رنز سے شکست کے بعد اول الذکر ٹیم کو میچ فکسنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔
جے پور میں کھیلے گئے میچ میں راجستھان رائلز نے 181 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 29 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 178 رنز بناکر میچ میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیے: 14 سال کی عمر میں آئی پی ایل ڈیبیو کرنے والا ویبھوو سوریا ونشی کون ہے؟
اس شکست کے بعد سری گنگانگر سے ممبر قانون ساز اسمبلی جیدیپ بیہانی نے میچ میں مبینہ میچ فکسنگ کا عندیہ دیا ہے۔ جیدیپ بیہانی حکومت کی طرف سے راجستھان کرکٹ ایسوسی ایشن (آر سی اے) کے لیے بنائی گئی ایڈہاک کمیٹی کے کنونیئر بھی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر سازگار حالات کے باوجود کیسے ہار سکتی ہے۔ اس کےساتھ ہی انہوں نے میچ میں مبینہ میچ فکسنگ کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا۔
جیدیپ بیہانی نے راجستھان رائلز کی انتظامیہ پر آر سی اے کو آئی پی ایل کے معاملات سے دور رکھنے کا الزام بھی لگایا۔
یہ بھی پڑھیے: آئی پی ایل میں پابندی لگنے پر انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کا ردعمل سامنے آگیا
حالیہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب آئی پی ایل میں راجستھان رائلز 8 میں سے صرف 2 میچز ہی جیت پائی ہے۔ ایسے میں میچ فکسنگ کی ان خبروں نے ٹیم پر دباؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
IPL آئی پی ایل کرکٹ میچ فکسنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی پی ایل کرکٹ میچ فکسنگ راجستھان رائلز آئی پی ایل میچ فکسنگ میچ میں
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔