اقوام متحدہ نے قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والی معدنیات کے حصول کی دوڑ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قدیمی مقامی لوگوں کی زندگی اور رہن سہن پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایمیزون کی خواتین جنگجوؤں کی 3 نسلیں روس کے ایک قدیم مقبرے سے برآمد

قدیمی مقامی لوگوں کے مسائل پر اقوام متحدہ کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ ایسے بیشتر معدنی وسائل ایسی جگہوں پر ملتے ہیں جہاں ان لوگوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ یہ وسائل حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی کان کنی کے نتیجے میں ان لوگوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔

سیکریٹری جنرل نے قدیمی مقامی لوگوں کے حقوق سے متعلق اعلامیے پر مکمل عملدرآمد کے ذریعے اس صورتحال کا ازالہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلامیہ دنیا بھر میں ان لوگوں کی بقا، وقار اور بہبود کو تحفظ دینے کا خاکہ ہے۔

انتونیو گوتیرش نے اقوام متحدہ میں قدیمی مقامی لوگوں کی شمولیت کو بڑھانے اور اسے مزید بامعنی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی زندگی پر اثرانداز ہونے والے اہم فیصلوں میں خود انہیں بھی اعلیٰ سطحی نمائندگی دینا ہو گی اور ان کے مسائل پر قائم کردہ ٹرسٹ فنڈ کو مضبوط بنانا ہو گا۔ انہوں نے حکومتوں اور اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ ان لوگوں کی قیادت، حقوق اور ضروریات پر توجہ دیں اور انہیں فیصلہ سازی کے ہر فورم میں جگہ دی جائے۔

مزید پڑھیے: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟

اس موقعے پر فورم کی نومنتخب سربراہ الوکی کوٹیرک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدیمی مقامی لوگوں کے حقوق سے متعلق کی جانے والی باتوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہو گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ قدیمی مقامی لوگوں سے متعلق اعلامیے کو قوانین اور پالیسیوں کا حصہ ہونا چاہیے اور ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اس اعلامیے پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ’ساتھی ہاتھ بڑھانا‘: چیلسی کے رہائشیوں کا ہزاروں کتابیں شفٹ کرنے کا انوکھا طریقہ

الوکی کوٹیرک نے قدیمی مقامی خواتین کو لاحق منفرد مسائل کا تذکرہ بھی کیا جنہیں نسلی تفریق، استعماریت اور پسماندگی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کی محافظ، ثقافتی رہنماؤں اور تبدیلی لانے والی خواتین کی حیثیت سے ان کے کردار کا اعتراف ہونا اور انہیں درکار ضروری وسائل اور احترام دینا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ قدیم افراد قدیم مقامی افراد کان کنی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ قدیم افراد قدیم مقامی افراد کان کنی قدیمی مقامی لوگوں اقوام متحدہ لوگوں کی لوگوں کے ان لوگوں کے حقوق

پڑھیں:

بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم