کینالزتنازع: نظرآرہاہے کہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا ،وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
اسلام آباد:وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے کہاہےکہ کینالزکے معاملے پر وفاقی حکومت نے اپنی درخواست میں پانی بچانے کاکوئی ذکرنہیں کیا، ارسانے غلط معلومات کی بنیاد پرسرٹیفکیٹ جاری کردیا ،نظرآرہاہے کہ یہ معاملہ بہت جلد حل ہوجائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سیدمرادعلی شاہ نے عوام سے اپیل کیکہ کینالزکےمعاملے پر احتجاج ضرورکریں مگرسڑکیں بند نہ کریں دھرنے کے باعث لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نےدرخواست میں یہ نہیں لکھاکہ پانی بچانے کے اقدامات کریں گے، جو درخواست دی گئی اس میں نہری نظام بہتربنانے کا کوئی ذکرنہیں ،راناثناء اللہ نے کہاکہ ہم پانی بچائیں گے مگردرخواست میں اس کاذکرنہیں، ارسانے غلط معلومات کی بنیاد پرسرٹیفکیٹ جاری کردیا،ہم نے ارسا کے سرٹیفکیٹ کوچیلنج کیاہے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت ارساسے سرٹیفکیٹ کینسل کرائے اورنئی درخواست دے، وفاقی حکومت وضاحت دے کہ پانی کہاں سے لائے گی۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت منصوبہ ختم کرنے کااعلان کرے تاکہ بےچینی ختم ہو،اس معاملے کوسی سی آئی میں لایاجائے۔
انہوں نے کہاکہ بالائی علاقوں کے پانی کے منصوبوں کے لئے زیریں علاقوں کے لوگوں کی رضامندی ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔