عدالتیں توٹوٹ چکی، اڈیالہ جیل کا دروازہ ٹوٹا تو حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے: اعتزاز احسن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
لاہور(اوصاف نیوز) معروف وکیل رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالتیں تو ٹوٹ چکی، ڈریں اس دن سے جب اڈیالہ جیل کا دروازہ توڑا گیا، عمران خان کے ساتھ مسلسل زیادتیاں ہورہی ہیں، کبھی یہ سوچا جاسکتا ہے کہ کسی قیدی کو اپنے گھر والوں سے ملاقات کی اجازت نہ ملے؟
اگر اڈیالہ جیل کا دروازہ ٹوٹ گیا تو معاملات کسی کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے اور یہ وہی کریں گے جن کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ یہ نکمے ہیں، کسی کام کے نہیں ہیں، اپنے قائد کو رہا بھی نہیں کراسکتے۔
ایک انٹرویو میں چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام پر بہت بڑا سوال ہے، عدالتیں تو ٹوٹ چکی ہیں، جس ملک میں 2 قسم کے سپریم کورٹ کے جج ہوں جن میں سے ایک قسم آئین کے مطابق فیصلے کرسکیں وہ اعلی قسم ہے اور ایک ایسے ججز ہیں جو پٹواریوں کے فیصلے کرنے والے ہیں جو صرف گاجر مولی چوری کے فیصلے کر سکتے ہیں اور وہ جو آئینی بینچ کے ججز ہیں انہوں نے ابھی تک ایک کیس کا بھی فیصلہ نہیں کیا حالانکہ چھبیسویں ترمیم کو بہت ٹائم گزرچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا ایشو شدت اختیار کرے گا، دیہی علاقوں میں کھالے پر آدھے گھنٹے کے پانی پر قتل ہوجاتے ہیں یہ تو ایک سمندر بہہ رہا ہے، یہ پانی چاروں صوبوں کا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کو کون ایسے مشورے دے رہا ہے؟ اگر نہریں نکلیں تو سندھ کے کسانوں نے پنجاب کے راستے بند کر دینے ہیں
کسان کیلئے پانی ایسے ہی ہے جیسے اس کی رگوں میں خون بہہ رہا ہے، وفاق کہہ رہا ہے ہم دریا ئے سندھ سے نہریں نہیں نکال رہے ہم دریائے چناب اور جہلم سے نکال رہے ہیں یہ کوئی دلیل ہے یہ سندھ میں سندھو ہے، دریاے سندھ کے شاخوں سے پانی لیں گے تو وہ سندھ سے پانی نکالنے کے مترادف ہو گا۔
انہوں نے کہا وفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم یہ نہریں پنجاب سے باہر تو لے جا نہیں رہے، کوٹے سے پنجاب سے نکل کر نہریں چولستان جائیں گی۔ پنجاب سے باہر نہیں تو پھر جرات کریں ان اضلاع کا نام لیں جن کا پانی وہاں جا ئے گا، جنوبی پنجاب بھی سندھ کے ساتھ جائے گا، ملک میں ٹینشنیں اتنی بڑھے گی کہ جس کی حد نہیں ہوگی، پیپلزپارٹی بڑی کلیئر ہے کہ چاروں بھائیوں کا مشترکہ پانی ہے کوئی ایک بھائی پانی نہیں لے سکتا۔
ٹرمپ ٹیرف کے اثرات پر رپورٹ جاری، پاکستان پسندیدہ ترین ملک قرار
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.