Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:22:24 GMT

“ملتان سلطانز کی قیمت بڑھائی تو نہیں خریدوں گا”

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

“ملتان سلطانز کی قیمت بڑھائی تو نہیں خریدوں گا”

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سابق چیمپئین ٹیم ملتان سلطانز کے اونر علی ترین نے فرنچائز کو دوبارہ پیسے بڑھا کر نہ خریدنے کا عندیہ دیدیا۔

پی ایس ایل کی سابق چیمپئین اور تین بار کی رنز اَپ فرنچائز ملتان سلطانز کے اونر علی ترین نے مقامی پوڈ کاسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ فرنچائز کو دوبارہ پیسے بڑھاکر نہیں خریدوں گا بلکہ بولی میں جاؤں گا تاکہ نقصان نہ ہو، مجھے پتہ ہے کہ ٹیم کو کتنے میں خریدنا ہے مجھ سے پہلے مالکان بھی بھاری نقصان کی وجہ سے ملتان سلطانز چھوڑ گئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مجھے بتائیں میں کتنا نقصان برداشت کروں؟، ملتان سلطانز کی قدرو قیمت بھی کراچی کنگز کے برابر ہے، اسی رقم میں خریدوں گا۔

علی ترین کا کہنا تھا کہ ملتان ہمارا ہوم گراؤنڈ ہے جب 3 میچز ہارے تو میں نے ٹیم سے کہا تھا پریشان نہ ہوں، ہم اپنے گھر جارہے ہیں وہاں کوئی نہیں ہرا سکتا، چیمپئین ٹیم وہی ہوتی ہے جو برے حالات میں پرفارم کرے، ملتان سلطانز نہ صرف مشکل حالات سے نکلے گی بلکہ ٹائٹل بھی جیتے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ہائپ نہیں بنی، میں نے اس کیلئے بہت کچھ کیا، پی سی بی کو بھی اپنا کام کرنا چاہیے، صرف ملتان ہی نہیں بلکہ پورا جنوبی پنجاب ہمیں سپورٹ کرتا ہے، یہاں پہنچ کر ہم نے سکھ کا سانس لیا، ہم نے کرکٹ پر بہت کام کیا ہے۔

قبل ازیں ملتان سلطانز کے مالک نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے پی ایس ایل میں ٹیموں کے رینٹل ماڈل پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں فرنچائز کے کوئی مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سال فرنچائز اونرز ٹیموں کو اپنے پاس رکھنے کیلئے رینٹ (یعنی کرایا) ادا کرتے ہیں، اگر نہ دیں تو ہمیں کوئی مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہیں جبکہ انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کی طرح غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بھی موجود نہیں۔

دوسری جانب پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں بورڈ کی جانب سے 2 نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کیلئے دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انکے لیے خریدار بھی مل گئے ہیں تاہم ناموں اور ملکیت کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ملتان سلطانز پی ایس ایل

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف