بھارتی یوگا گرو حریف مشروب کے خلاف توہین آمیز اشتہار حذف کرنے پر تیار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
بھارتی یوگا گرو بابا رام دیو نے دہلی کی ایک عدالت کو بتایا ہے کہ وہ ان اشتہارات کو ہٹا دیں گے جن میں انہوں نے ایک حریف کمپنی کے مشروبات کے بارے میں متنازع بیان دیا تھا۔
نجی اخبار میں برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق رام دیو نے اپنی کمپنی پتنجلی کے میٹھے مشروب کی تشہیر کے لیے بنائی گئی ایک ویڈیو میں الزام عائد کیا تھا کہ کچھ برانڈز نے اپنے منافع کا استعمال مساجد اور مدارس کی تعمیر میں کیا۔
انہوں نے اس برانڈ کا نام تو نہیں لیا لیکن اسے وسیع پیمانے پر روح افزا کے بارے میں سمجھا جاتا ہے، جو ایک اسلامی خیراتی تنظیم ہمدرد لیبارٹریز کی جانب سے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے تیار کیا جانے والا مقبول مشروب ہے۔
یہ ویڈیو وائرل ہو گئی جس سے غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، ہمدرد نے ایک مقدمہ بھی دائر کیا ہے جس میں اشتہارات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
روح افزا ایک میٹھا مشروب ہے جو بھارت اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں مقبول ہے اور عام طور پر اسے شربت کہا جاتا ہے، ہمدرد کی جانب سے 1906 میں متعارف کرایا جانے والا یہ شربت عام طور پر دودھ یا پانی میں ملایا جاتا ہے اور رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے والے مسلمانوں میں بہت مقبول ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں رام دیو نے ’شربت جہاد‘ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے جو ’لو جہاد‘ جیسی اصطلاحات پر مبنی ہے، جس کے ذریعے بنیاد پرست ہندو گروپ مسلم مردوں پر ہندو خواتین کو شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، اس معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ مسلمان ہندوؤں کی طرف سے خرچ کیے گئے پیسے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق منگل کو دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج نے رام دیو کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’ناقابل دفاع‘ قرار دیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رام دیو
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔