بھارت نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا، کل بھر پور ردعمل دیں گے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو بھارت کرے گا ویسا ہی جواب دیں گے، کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں ہونی چاہیے، پاکستان دنیا میں امن چاہتا ہے، خدانخواستہ بھارت نےایکشن لیا تو ہماری تیاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے بھارت نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا، کل بھر پور ردعمل دیں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جب بھارت میں واقعہ ہوا تو ہم ترکیہ میں تھے، پاکستان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے غیرذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، بھارت کو ترکی با ترکی جواب دیں گے، بھارت کے پاس اگر کوئی شواہد ہیں تو پیش کرے، پاکستان بھارت کو کل بھرپور ردعمل دے گا، قومی سلامتی کمیٹی میں فیصلے ہوں گے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو بھارت کرے گا ویسا ہی جواب دیں گے، کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں ہونی چاہیے، پاکستان دنیا میں امن چاہتا ہے، خدانخواستہ بھارت نےایکشن لیا تو ہماری تیاری ہے۔ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے اعلانات میں غیرسنجیدگی نظر آتی ہے، بھارت اپنے مسائل کا ملبہ پاکستان پرڈال دیتا ہے، دہشت گردی کے واقعے کا غصہ اس طرح نکالنا مناسب نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ اسحاق ڈار بھارت نے دیں گے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔