اسکریپ کی آڑ میں طبی آلات، ای سگریٹس سمیت 14کروڑ کی اشیاء اسمگل کرنیکی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کسٹمز نے مس ڈیکلریشن کے ذریعے 14کروڑ روپے کی اشیاء اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
حکام کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایکسپورٹ فیسیلٹیشن اسکیم کے تحت اشیاء اسمگل ہوگی۔
ڈپٹی کلکٹر رضا نقوی کے مطابق المونیم فوائل اسکریپ کی آڑ میں طبی آلات، ای سگریٹس، ویب فلیور اور لیتھئیم بیٹری اسمگل کی جارہی تھیں۔ گڈز ڈیکلریشن میں 40فٹ کنٹینر کنسائمنٹ پر 81950 کلو گرام المونیم فوائل ظاہر کیا گیا تھا۔
رضا نقوی کے مطابق ملائیشیاء سے درآمدہ کنٹینر کیو آئی سی ٹی کے گرین چینل سے کلیئر ہوچکا تھا تاہم حکام نے ٹرمینل سے باہر نکلتے ہی کنٹینر کو تحویل میں لیکر ایگزامنیشن کی۔ درآمدی دستاویزات کی جانچ پڑتال پر ای ایف ایس اسکیم کے تحت مس ڈیکلریشن کی تصدیق ہوئی۔
درآمد کنندہ میسرز ڈومیسٹک انڈسٹریز کے خلاف مقدمہ درج کرکے اشیاء ضبط کرلی گئیں۔ کسٹم حکام کی جانب سے اس ضمن میں مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔