پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کا وافر ذخیرہ کرنے کے احکامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں فوری اضافے کی ہدایات جاری کر دی ہیں اس سلسلے میں ڈی جی آئل نے پاکستان اسٹیٹ آئل سمیت تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل ریفائنریز کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں ڈیزل اور جیٹ فیول کی وافر مقدار دستیاب رکھی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے ہدایت دی ہے کہ تیل کی درآمد کا عمل تیز کیا جائے اور تمام متعلقہ ادارے بروقت اقدامات یقینی بنائیں تاکہ ملک میں ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو اس حوالے سے پی ایس او اور دیگر درآمدی کمپنیاں بھی سرگرم ہو چکی ہیں اور جلد ہی اضافی مقدار میں تیل کی درآمد شروع کر دی جائے گی پیٹرولیم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں جیٹ فیول ہائی اسپیڈ ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے تاہم بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر ایمرجنسی پلان فعال کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف ذخائر کو بہتر بنانا ہی نہیں بلکہ عوام کو یہ یقین دہانی کروانا بھی ہے کہ کسی بھی صورتحال میں ایندھن کی قلت پیدا نہیں ہونے دی جائے گی اور تمام تر اقدامات بروقت مکمل کیے جا رہے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔