اب20 سال سے پرانی گاڑیاں موٹروے پر نہیں چلیں گی،ہمیں جانوں کی حفاظت کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے:عبدالعلیم خان
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ہمیں جانوں کی حفاظت کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، اب20 سال سے پرانی گاڑیاں موٹروے پر نہیں چلیں گی۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا اسلام آباد میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور دیگرشعبوں کا معائنہ کیا ۔ چاق چوبند دستے نے سلامی دی ۔ وفاقی وزیر نے شہدا کے درجات کی بلندی کےلیے دعا کی اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وفاقی وزیرنے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے پر ایک ہی مقام پر بار بار حادثے ہورہے ہیں ۔ آئی جی حکمت عملی بنائیں ۔ ہمیں جانوں کی حفاظت کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔
کرتارپور راہداری سے معمول کے مطابق سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد
عبدالعلیم خان نے کہا کہ اب 20 سال سے پرانی گاڑیاں موٹر وے پرنہیں چلنے دی جائیں گی ۔ اووراسپیڈنگ اور ایکسل لوڈ پر زیروٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔ کمرشل ڈرائیورز کی تربیت لازمی ہے ۔ 3 ماہ میں تمام کمرشل گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔