بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا ظالمانہ اقدام ہے، شازیہ مری
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے حوالے سے پی پی رہنما نے کہا ہے کہ کسی ایک فریق کی خواہش پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہو سکتا، پیپلز پارٹی بھارت کے اس ظالمانہ اعلان کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا ظالمانہ اقدام ہے۔ مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم وسائل کی منصفانہ تقسیم و آئینی برابری کےخواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبوں پرمشتمل کمیٹی کا قیام خوش آئند ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا ہے کہ کسی ایک فریق کی خواہش پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی بھارت کے اس ظالمانہ اعلان کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدہ معطل پیپلز پارٹی کہا ہے کہ
پڑھیں:
تیسرے آپریشن کے بعد آنیوالی خواتین کا مانع حمل آپریشن کر دینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
فیملی پلاننگ سمٹ سے خطان کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا کہنا ہے کہ تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے۔ کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں جاری چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد ایک خاتون حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے محروم ہو جاتی ہے، ماں کی زندگی بچانے کیلئے خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی سہولیات تک رسائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ اور ہنگامی زچگی کے کیسز کو بروقت اسپتال منتقل کرنے کیلئے ایمبولینس سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ صحت کے مراکز پر ادویات اور ضروری طبی سامان کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے سپلائی چین کے نظام میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے، تاکہ بنیادی سطح پر کام کرنے والے طبی عملے کو مریضوں کی جان بچانے کیلئے تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں۔
عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ آج میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ سندھ کیا کر رہا ہے، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، اور سندھ اس حوالے سے ملک میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے قوانین بنائے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خاتون تیسرے سی سیکشن کے بعد آئے، اس کی ٹی ایل کر دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں، اس لیے اس میں بہتری کیلئے پیدائشی اسٹیشن سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔