کراچی بورڈ، انٹر سال اول کے طلبہ کو گریس مارکس دینے کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
صوبائی کابینہ نے خصوصی کمیٹی کی جانب سے انٹر سال اول کے طلبہ کو کیمسٹری میں 20 فیصد جبکہ ریاضی اور فزکس میں 15/15 فیصد مارکس دینے کی منظوری دی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ حکومتِ سندھ کے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے انٹر سال اول 2024ء کے سالانہ امتحانات دینے والے طلبہ کو 15 اور 20 فیصد گریس مارکس دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے نوٹیفکیشن صوبائی کابینہ کی جانب سے 15 اپریل کو منعقدہ اجلاس میں دی گئی منظوری کے ضمن میں جاری کیا گیا ہے، جس کا اطلاق انٹر سال اول امتحانات 2024 پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ فیکیلٹیز پر ہوگا۔ اس حوالے سے اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا ہے۔ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے سیکشن افسر برائے بورڈز شریف الدین کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں چیئرمین انٹر بورڈ کراچی سے کہا گیا ہے کہ صوبائی کابینہ نے خصوصی کمیٹی کی جانب سے انٹر سال اول کے طلبہ کو کیمسٹری میں 20 فیصد جبکہ ریاضی اور فزکس میں 15/15 فیصد مارکس دینے کی منظوری دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لہٰذا متعلقہ طلبہ کو گریس مارکس دینے کی صوبائی کابینہ کے اس فیصلہ پر اب مزید کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ اس وقت انٹر بورڈ کراچی میں کوئی مستقل چیئرمین نہیں ہے اور بورڈ کے چیئرمین کا چارج میٹرک بورڈ کراچی کے چیئرمین کے پاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی کابینہ انٹر سال اول بورڈ کراچی کی جانب سے طلبہ کو
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔