پہلگام سانحہ کی تحقیقات اقوام متحدہ کرے، مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
سٹی42: بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند تنظیموں کے نمائندہ اتحاد حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشنوں کے ذریعے تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر بھارت ا پنے مذموم منصوبوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا، عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بھارت کا محاسبہ کرے۔
حریت کانفرنس نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ پہلگام حملے سمیت قتل عام کے تمام واقعات کی تحقیقات کے لیے ٹیم مقبوضہ کشمیر بھیجے، حق خودارادیت کے منصفانہ مطالبے پر بھارتی حکومت مظلوم لوگوں کو نشانہ بنا کر خاموش کرا رہی ہے، کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق استصواب رائے کے اپنے جائز مطالبے کو جاری رکھیں گے۔
گلیڈئیٹرز vs کے کے؛ روسو حسن علی کا تیسرا شکار بن گئے
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔