پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے سپر اسٹار فواد خان کی بالی ووڈ فلم ’ابیر گلال‘ کی ریلیز خطرے میں پڑگئی ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد فواد خان اور بھارتی اداکارہ وانی کپور کی فلم شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے اور بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

فلم ’’ابیر گلال‘‘ کا ٹیزر یکم اپریل کو جاری کیا گیا تھا، یہ فلم جو پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی اب اس کی ریلیز اور کامیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ فلم کیخلاف سوشل میڈیا پر بائیکاٹ مہم کا آغاز کیا جاچکا ہے۔

بھارتی شدت پسند حلقے کی جانب سے اس فلم میں فواد خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فلم اور ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اشوک پنڈت نے فلم کی ریلیز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فلم نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

A post common by BollywoodShaadis.

com (@bollywoodshaadis)

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنا اس وقت قابلِ قبول نہیں جب ان کا ملک بھارت کے خلاف سرگرم ہو۔ یہی نہیں انہوں نے کرکٹ میچز اور بین الاقوامی شوز میں پاکستانی فنکاروں کی شرکت پر بھی سوالات اٹھائے۔

دوسری جانب فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (FWICE) کے صدر بی این تیواری نے بھی اعلان کیا کہ وہ ’ابیر گلال‘ کی بھارت میں ریلیز کی اجازت نہیں دیں گے، اور اگر فلم ریلیز ہوئی تو سخت کارروائی کی جاسکتی ہے جبکہ عوام کی جانب سے بھی سخت ردعمل آئے گا۔

A post common by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)

یاد رہے کہ فواد خان فلم جو پہلے بھی کئی بھارتی فلموں میں  کام کر چکے ہیں ’ابیر گلال‘ کیساتھ طویل مدت کے بعد واپسی کر رہے تھے تاہم اب ان کی بالی ووڈ میں واپسی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔

TagsShowbiz News Urdu

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ابیر گلال فواد خان کے بعد

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟