پہلگام حملے کے بعد فواد خان کی فلم ’ابیر گلال‘ پر بھارت میں پابندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے سپر اسٹار فواد خان کی بالی ووڈ فلم ’ابیر گلال‘ کی ریلیز خطرے میں پڑگئی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد فواد خان اور بھارتی اداکارہ وانی کپور کی فلم شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے اور بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
فلم ’’ابیر گلال‘‘ کا ٹیزر یکم اپریل کو جاری کیا گیا تھا، یہ فلم جو پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی اب اس کی ریلیز اور کامیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ فلم کیخلاف سوشل میڈیا پر بائیکاٹ مہم کا آغاز کیا جاچکا ہے۔
بھارتی شدت پسند حلقے کی جانب سے اس فلم میں فواد خان کو کاسٹ کرنے پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فلم اور ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اشوک پنڈت نے فلم کی ریلیز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فلم نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
A post common by BollywoodShaadis.
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنا اس وقت قابلِ قبول نہیں جب ان کا ملک بھارت کے خلاف سرگرم ہو۔ یہی نہیں انہوں نے کرکٹ میچز اور بین الاقوامی شوز میں پاکستانی فنکاروں کی شرکت پر بھی سوالات اٹھائے۔
دوسری جانب فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (FWICE) کے صدر بی این تیواری نے بھی اعلان کیا کہ وہ ’ابیر گلال‘ کی بھارت میں ریلیز کی اجازت نہیں دیں گے، اور اگر فلم ریلیز ہوئی تو سخت کارروائی کی جاسکتی ہے جبکہ عوام کی جانب سے بھی سخت ردعمل آئے گا۔
A post common by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
یاد رہے کہ فواد خان فلم جو پہلے بھی کئی بھارتی فلموں میں کام کر چکے ہیں ’ابیر گلال‘ کیساتھ طویل مدت کے بعد واپسی کر رہے تھے تاہم اب ان کی بالی ووڈ میں واپسی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ابیر گلال فواد خان کے بعد
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔