“ورلڈکپ؛ پاکستان ویمن ٹیم کو بھارت کے گروپ میں شامل نہ کیا جائے”
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) ویمنز ورلڈکپ 2025 پاکستان ویمن ٹیم اپنے گروپ میں شامل کرنے سے گھبرانے لگا۔
کرک بز کی رپورٹ کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد پاکستان ویمنز ٹیم کی ورلڈکپ 2025 میں کوالیفکیشن نے بھارت کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) میگا ایونٹ کیلئے پاکستان اور ہندوستان کی ٹیموں کو ایک گروپ میں شامل نہ کرنے کیلئے آئی سی سی کو خط لکھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس مینز مقابلوں کا کوئی بڑا ایونٹ شیڈول نہیں ہے تاہم 2025 میں ویمنز کا ون ڈے ورلڈکپ ستمبر اکتوبر میں ہندوستان میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان نے میگا ایونٹ کیلئے کوالیفائی کرلیا ہے اور گرین شرٹس اپنے تمام مقابلے نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے پہلگام واقعہ کے بعد موقف اپنایا ہے کہ ہماری حکومت جو کہے گی، ہم وہی کریں گے، پاکستان سے کرکٹ تعلقات کے درمیان حکومتی ہدایات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ہم پہلگام واقعہ کے متاثرین کے ساتھ ہیں، پاکستان کیساتھ دوطرفہ سیریز نہیں کھیلیں گے لیکن آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان کیخلاف ہماری ٹیم میدان میں اُترے گی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔