پہلگام واقعہ کے بعدچینی سفیر کی دفترخارجہ آمد، پاکستان سے قریبی رابطے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پہلگام واقعہ کے بعد اسلام آباد میں دفتر خارجہ ایک بار پھر بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق بھارتی شرانگیزی کے بعد چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ ہنگامی مشاورت کے لئے دفتر خارجہ پہنچے، چینی سفیر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے اہم ملاقات کی جس میں پہلگام واقعہ کے بعد خطے کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے چینی سفیر کو نہ صرف بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر پاکستان کا موقف پیش کیا بلکہ بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزیوں، بالخصوص سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پانی روکنے کی دھمکیوں سے بھی آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے واضح الفاظ میں کہا کہ پانی روکنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں اور اسے اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے مگر بھارت کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
چینی سفیر نے اس موقع پر پاکستان کے مو¿قف کو سنا اور باہمی تعاون، سفارتی مشاورت اور خطے میں امن و استحکام کے لئے چین کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں چین نے بھارت کی طرف سے پیدا کی جانے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارتی سطح پر پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق 6 پاکستانیوں کی میتیں لاہور ایئرپورٹ پہنچ گئیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔