نیو دہلی:

انڈین پریمیئرلیگ (آئی پی ایل) دنیا بھر کے کرکٹرز کی طرح امپائرز کے لیے بھاری کمائی کا ذریعہ ہے جہاں امپائرز ایک میچ میں لاکھوں بھارتی روپے کماتے ہیں اور امپائرز کا کردار کھیل کے لیے اتناہی اہم ہے جتنا ایک کھلاڑی کا ہوتا ہے کیونکہ میدان میں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ آن گراؤنڈ امپائرز اور تھرڈ امپائر بھی لازمی جز ہوتے ہیں۔

کرکٹ میں امپائرز کی ذمہ داری بھی کھلاڑیوں کی طرح اہم ہوتی ہے لیکن ان کی کمائی کھلاڑیوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے حالانکہ امپائر کے کسی کمزور فیصلے پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے جبکہ درست فیصلوں پر ان کی اتنی پذیرائی دیکھنے کو نہیں ملتی۔

آئی پی ایل بھارت کے قومی خزانے کے لیے منافع بخش شعبوں میں سے ایک ہے اور دنیا بھر سے کھلاڑی اور کوچز کی صورت میں سابق کھلاڑی بڑی تنخواہوں کے عوض ذمہ داریاں حاصل کرتے ہیں لیکن امپائرز کی تنخواہوں میں اتنے بڑے فرق سے انتہائی منافع بخش ٹورنامنٹ بھی مبرا نہیں ہے۔

کرکٹ کے مداحوں کی جانب سے بھی امپائرز کے کردار پر بہت کم توجہ دیتے ہیں اور ان کی تنخواہوں کے بارے میں بات نہیں کی جاتی ہے اور یہاں تک ٹی20 کے اس مشہور ٹورنامنٹ میں امپائرز کی تنخواہ کے حوالے سےمعلومات بھی نہیں رکھتے جبکہ کھلاڑیوں کی قیمت، میچ فیس اور دیگر انعامات کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے آگاہ ہوتے ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل 2025 میں آن فیلڈ امپائرز کو فی میچ 3 لاکھ بھارتی روپے ملتے ہیں جبکہ چوتھے امپائر کو فی میچ دو لاکھ روپے ملتے ہیں۔

دوسری جانب آئی پی ایل 2025 میں میچ کھیلنے والی ٹیم اور متبادل کھلاڑی بھی 7 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے کماتا ہے جو فرنچائز کی جانب سے معاہدے کے تحت ملنے والی تنخواہ کے علاوہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئی پی ایل

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا