کینیڈا کی جونیئر ہاکی ٹیم کے 5 سابق کھلاڑی جنسی زیادتی کے مقدمے سے بری
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
کینیڈا کی 2018 ورلڈ جونیئر آئس ہاکی ٹیم کے پانچ سابق کھلاڑیوں کو ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں بے گناہ قرار دے دیا گیا ہے، جس کا اعلان جمعرات کے روز جج نے کیا۔
مائیکل میکلوڈ، ایلکس فورمینٹن، ڈیلن ڈوبے، کارٹر ہارٹ اور کیل فوٹ پر یہ الزامات کینیڈا کے شہر لندن کے ایک ہوٹل میں اس وقت کے ایک واقعے سے متعلق تھے، جب ٹیم کی عالمی جونیئر چیمپیئن شپ کی فتح کی خوشی میں ہاکی کینیڈا کی جانب سے ایک گالا تقریب منعقد کی گئی تھی۔
ان تمام سابق نیشنل ہاکی لیگ یعنی این ایچ ایل کے کھلاڑیوں پر جنسی زیادتی کا ایک ایک الزام عائد کیا گیا تھا، جبکہ میکلوڈ پر ایک اضافی الزام بھی تھا کہ وہ جرم میں شریک تھے۔ تاہم، تمام کھلاڑیوں نے خود کو بے گناہ قرار دیا اور جج نے میکلوڈ کو اضافی الزام سے بھی بری کر دیا۔
Breaking: Justice Maria Carroccia has acquitted five former #NHL players – Carter Hart, Dillon Dubé, Alex Formenton, Michael McLeod and Cal Foote – today on charges of sexual assault.
Justice Carroccia opined she found “inconsistencies” in the testimony of a woman who alleged…
— Frank Seravalli (@frank_seravalli) July 24, 2025
این ایچ ایل نے ایک بیان میں کہا کہ اس مقدمے میں عائد الزامات، چاہے وہ قانونی لحاظ سے ثابت نہ ہوں، پھر بھی نہایت تشویشناک اور ناقابلِ قبول تھے، لیگ نے مزید کہا کہ وہ جج کے فیصلے کا جائزہ لے گی اور اس دوران ان کھلاڑیوں کو لیگ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جسٹس ماریا کاروچیا نے کہا کہ انہیں مدعیہ کی گواہی ’قابلِ اعتبار یا قابلِ بھروسہ‘ محسوس نہیں ہوئی، اور استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ جنسی عمل اس کی رضامندی کے بغیر ہوا تھا۔
مدعیہ کی وکیل، کارن بیلہومر نے، جو مقدمے میں ای ایم کے نام سے شناخت کی گئی ہے، کہا کہ ان کی مؤکلہ، جو عدالتی کارروائی کو آن لائن دیکھ رہی تھی، فیصلے سے شدید مایوس ہوئی ہیں۔
استغاثہ کی وکیل میگھن کننگھم نے میڈیا کو بتایا کہ وہ جج کے فیصلے کا بغور جائزہ لیں گی، لیکن چونکہ اپیل کا وقت ابھی باقی ہے، اس لیے وہ مزید تبصرہ نہیں کریں گی۔
دفاعی وکلا نے مدعیہ کے کردار اور گواہی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ میکلوڈ کے وکیل ڈیوڈ ہمفری نے کہا کہ جسٹس کاروچیا کا سوچ سمجھ کر دیا گیا فیصلہ مسٹر میکلوڈ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک مضبوط تائید ہے۔
جنوری 2024 میں جب ان پر الزامات عائد کیے گئے، تو میکلوڈ اور فوٹ نیو جرسی ڈیولز سے وابستہ تھے، ڈوبے کیلگری فلیمز، ہارٹ فلاڈیلفیا فلائرز، اور فورمینٹن سوئٹزرلینڈ میں کھیل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:
اپریل میں شروع ہونے والے اس مقدمے کو قومی توجہ حاصل ہوئی، لیکن اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ایک بار مقدمے کا باطل قرار دینا اور 2 مرتبہ جیوری کو برطرف کرنا شامل تھا۔ بعد میں مقدمہ صرف جج کی سربراہی میں جاری رہا۔
پہلی بار پولیس نے 2019 میں اس کیس کو بغیر کسی فردِ جرم کے بند کر دیا تھا، لیکن جولائی 2022 میں عوامی ردعمل کے بعد اسے دوبارہ کھولا گیا، جب یہ رپورٹ سامنے آئی کہ ہاکی کینیڈا نے مدعیہ کے ساتھ ایک نجی تصفیے کے لیے کھلاڑیوں کی رجسٹریشن فیس استعمال کی۔
اس اسکینڈل کے نتیجے میں کینیڈین وفاقی حکومت نے ہاکی کینیڈا کی مالی معاونت 10 ماہ کے لیے منجمد کر دی، اور کئی بڑے اسپانسرز نے اپنے معاہدے معطل یا منسوخ کر دیے۔
مزید پڑھیں:
ہاکی کینیڈا نے اس کے ردعمل میں اعلان کیا کہ وہ اب کھلاڑیوں کی فیس سے جنسی زیادتی کے دعوے سیٹل نہیں کرے گا۔ بعد ازاں، تنظیم کے سی ای او اور بورڈ آف ڈائریکٹرز مستعفی ہو گئے۔
2023 میں، ہاکی کینیڈا نے بتایا کہ ایک آزاد پینل نے سماعت کی کہ آیا 2018 کی جونیئر ٹیم کے بعض ارکان نے تنظیم کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، اور اگر کی تو ان پر کون سی پابندیاں عائد کی جائیں۔
اس پینل کی حتمی رپورٹ ابھی اپیل کے مرحلے میں ہے اور خفیہ رکھی گئی ہے۔ اپیل دائر کرنے والے فریق کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ستمبر میں اپیل کی سماعت اس وقت تک ملتوی کر دی گئی جب تک کہ فوجداری مقدمہ مکمل نہ ہو جائے۔
ہاکی کینیڈا نے فیصلے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ پینل کی رپورٹ کی اپیل کے جاری عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے، ہم اس وقت مزید کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئس ہاکی ٹیم اجتماعی زیادتی کینیڈا نیشنل ہاکی لیگ ہاکی ورلڈ جونیئر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئس ہاکی ٹیم اجتماعی زیادتی کینیڈا نیشنل ہاکی لیگ ہاکی ورلڈ جونیئر کینیڈا کی کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔