DOHA:

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ غزہ میں نئی جنگ بندی کی کوششوں میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ بدستور غیرواضح ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ ہم نے گزشتہ ہونے والی ملاقاتوں کے مقابلے میں آخری ملاقات میں معمولی پیش رفت دیکھی ہے لیکن ابھی ہمیں اس حوالے سے حتمی فیصلے تک پہنچنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ کیسے ہو کیونکہ یہی پورے مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہے۔

قطری وزیراعظم نے حالیہ مذاکرات میں کن پہلوؤں پر پیش رفت ہوئی ہے، اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا لیکن ان کا کہنا تھا کہ حماس اور اسرائیل دونوں کے درمیان مذاکرات کے اصل مقصد پر بدستور اختلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس تمام اسرائیلی قیدیوں کو واپس کرنے کے لیے تیار ہے اگر اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ ختم کردی جائے لیکن اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بغیر کسی وضاحت کے حماس تمام قیدیوں کو رہا کردے۔

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان نے دوحہ میں ترک وزیرخارجہ ہاکان فیدان کے ہمرہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جب فریقین کے درمیان مشترکہ اہداف اور مقاصد نہ ہو تو پھر کامیابی کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان رواں برس 19 جنوری سے 17 مارچ تک جنگ بندی ہوئی تھی اور اسرائیل کے 33 قیدیوں کو رہا کردیا گیا، جن میں ہلاک ہونے والے 8 افراد بھی شامل تھے، اس کے بدلے میں اسرائیل نے ایک ہزار 800 فلسطینیوں کو اپنی جیلوں سے رہا کردیا تھا۔

غزہ کی وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں میں 18 مارچ سے اب تک دو ہزار 62 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 51 ہزار 439 سے تجاوز کرگئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن