بی ایل اے سے وابستہ ماہ رنگ بلوچ کی حمایت پر خاتون وکیل کیخلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
راولپنڈی:
سوشل میڈیا پر کلعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے وابستہ ماہ رنگ بلوچ کی حمایت کرنے پر سائبر کرائم اسلام آباد میں خاتون وکیل جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ماہ رنگ بلوچ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے فورتھ شیڈول پر ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق انکوائری کے دوران سامنے آیا کہ جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے جان بوجھ کر ماو رنگ بلوچ کی حمایت میں مواد شیئر کیا۔ جلیلہ حیدر کا اقدام عوامی و معاشرتی سطح پر بے چینی و بدامنی پھیلانے کی کوشش ہے۔
جلیلہ حیدر کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کے سیکشن 9، 10 اور 26-A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ سرکاری کی جانب سے سائبر کرائم کے سفیر انیس الرحمان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔