Islam Times:
2026-06-03@01:45:01 GMT

پاکستان میں تشیع کی سیاسی جدوجہد اور قیادتیں(2)

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

پاکستان میں تشیع کی سیاسی جدوجہد اور قیادتیں(2)

اسلام ٹائمز: یہ اتنا اہم مسئلہ تھا کہ جس کیلئے اسلام آباد میں ہاکی گرائونڈ میں معروف اجتماع منعقد ہوا، جو ایک طویل داستان ہے۔ بہرحال یہ اجتماع اور مطالبات کی منظوری کیلئے پارلیمنٹ کی طرف مارچ، کفن پوش دستوں کی تشکیل اور امامیہ اسٹوڈنٹس کی اس سارے عرصہ میں خدمات اور کردار ایک الگ داستان ہے، جسے ہم سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔ اگلے حصہ میں مفتی جعفر حسین کی کچھ مزید خدمات، ان کی جانگدزا رحلت اور پھر قائد ملت علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید کا انتخاب، ملت کی تعمیر ترقی، سربلندی، عروج اور پیش رفت کے نئے دور کا آغاز سامنے لائیں گے۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر

ستر کی دہائی کے اواخر میں پاکستان کے سیاسی و سماجی ماحول میں ایک بہت بڑی تبدیلی اس وقت آئی، جب ایک جمہوری حکمران ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے معزول کرکے ایک فوجی ڈکٹیٹر شپ نے اقتدار اعلیٰ سنبھال لیا۔ جنرل ضیاء الحق نے (1977ء جولائی) اقتدار سنبھالتے ہی اسلامائزیشن کی بات کی، چونکہ ملک میں اس سے پہلے قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ایک وسیع اتحاد بنا کر بھٹو صاحب کا مقابلہ کر رہی تھیں اور دھاندلی کا الزام بھی لگایا گیا تھا، جس سے ملکی افق پر سیاسی ابتری کا ماحول جنم لے چکا تھا۔ احتجاج جاری تھا، لہذا جنرل ضیاء الحق نے اسلامی نظام کا نعرہ لگا دیا۔ مرد مومن مرد حق، ضیاء الحق ضیاء الحق کے نعرے لگنے لگے۔ دینی طبقہ کو اپنی جانب کھینچ کر ڈکٹیٹر اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہا تھا۔

اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے اور اعلانات پر عام عوام نے تو دھوکہ کھایا ہی، سیاسی و دینی قائدین بھی اس دھوکے میں آگئے، جبکہ اہل تشیع کو فکر لاحق ہوگئی کہ آخر کونسا اسلام نافذ ہوگا۔ انکے حقوق، بالخصوص عزاداری کے مسائل، مجالس و ماتم کی صداءوں کا کیا بنے گا۔ جنرل ضیاء الحق نے زکواۃ و عشر اور قطع ید آرڈیننس کا اعلان کیا، جس کی تمام تفصیلات فقہ حنفی کے مطابق تھیں، اس سے مکتب تشیع اور ان کی قیاددت میں ہیجان پیدا ہوگیا۔ اسی طرح شیعہ نصاب، جو اس سے قبل حکومت سے طے ہوچکا تھا، اس کے ساتھ بھی چھیڑ خانی کا آغاز ہوگیا۔ یہ ساری صورتحال اس وقت شیعہ قائدین اور تنظیمات بالخصوص امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان جو ملک گیر تنظیم بن چکی تھی، اس نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، علماء سے ملاقاتوں میں اس نازک صورتحال پہ مشاورت جاری رکھی۔

مفتی جعفر حسین قبلہ جو گوجرانوالہ شہر سے تعلق رکھتے تھے اور ایک انتہائی علمی و باقتی شخصیت کا تاثر رکھتے تھے، جبکہ حکومتی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بھی تھے۔ علامہ صاحب سے امامیہ برادران کے وفود نے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا، یہ وہ دور تھا، جب حکومتوں کو احتجاجی تار بھیجے جاتے تھے۔ تنظیم اور قوم نے اس وقت صدر مملکت کے نام احتجاجی تار روانہ کیے، تاکہ شیعہ مکتب کی تشویش پہنچ سکے۔ علماء سے ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مفتی جعفر حسین قبلہ نے لاہور میں فروری 1979ء میں پریس کانفرنس کرکے کہا کہ اگر حکومت نے شیعہ موقف کو درخور اعتنا نا سمجھا تو وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے احتجاجا مستعفی ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ اس وقت تک مفتی جعفر حسین قبلہ قائد ملت جعفریہ منتخب نہیں ہوئے تھے، نا ہی اس وقت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی بنیاد پڑی تھی۔ مفتی صاحب قبلہ کے مطالبات کو پوری قوم نے سراہا اور ان کی تائید کی، جبکہ بھکر اجتماع سے قبل گوجرانوالہ جامعہ جعفریہ میں تمام شیعہ تنظیمات کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مطالبات کی تائید کی گئی اور حکومتی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ بھکر میں عظیم قومی اجتماع  کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے منصوبہ بندی بھی گئی۔ کیا لوگ تھے، جو قومی مفاد پر قربانی دینے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ عہدے، منصب، حکومتی ایوانوں میں آمد و رفت، مقام و منصب اور ناموری یہ سب چیزیں اس وقت بھی ہوتی تھیں، مگر وہ تقویٰ الہیٰ سے سرشار تھے، قوم کا مفاد سب سے عزیز تھا اور کسی لالچ، کسی بلیک میلنگ میں آنے والے نہیں تھے۔

مفتی صاحب اتنے سادہ زیست تھے کہ جب امامیہ کا وفد ان سے ملنے ان کے گھر گیا تو دروازہ کھولنے والے وہ خود تھے۔ یہ طریق حقیقت میں ہمارے آئمہ طاہرین (ع) کا ہی تھا، جسے آج پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ بہرحال گوجرانوالہ میں 5، 6 اپریل کو ہونے والے شیعہ تنظیموں کے اجلاس کے بعد بھکر میں 12، 13 اپریل کو عظیم شیعہ اجتماع منعقد ہوا، جس میں شیعہ قوم کو پہلی بار اپنا قائد منتخب کرنے کا موقع ملا۔ مثالی انتظامات تھے، جو الگ داستان و تاریخ ہے۔ اس اجتماع کی روداد کسی دوسرے موقعہ پہ پیش کریں گے۔ بہرحال اس میں مفتی جعفر حسین قبلہ کو قائد ملت منتخب کیا گیا، انہوں نے انتخاب کے بعد 20 اپریل کو گوجرانوالہ میں ایک بیس رکنی سپریم کونسل بنانے کا اعلان کیا، جبکہ پریس کانفرنس کے ذریعے شیعہ مطالبات بالخصوص زکواۃ و عشر جیسے اہم مسئلہ پر روابط کیے۔ حکومت تک اپنا موقف واضح کیا اور الٹی میٹم دیا کہ اگر مطالبات نہیں مانے تو وہ اسلامی نظریاتی کونسل سے مستعفی ہو جائیں گے، تاکہ حکومت کا حصہ نہ ہوں، وہ بھی ایک ایسی حکومت جو شیعہ حقوق غصب کرنے پر تلی ہو

لہذا 30 اپریل کو مفتی جعفر حسین قبلہ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا اور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران حکومتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ صدر مملکت نے شیعہ وفد کو دعوت دی، جس میں ہمیشہ کی طرح حکومت نے سپریم کونسل کے نامزد کردہ انیس افراد کے علاوہ چودہ ایسے افراد بھی بلا لیے، جن کا شمار حکومت کے حامیان میں ہوتا تھا۔ یہ ملاقاتوں کا سلسلہ یونہی چلتا رہا اور قیادت اپنے دست و بازوءوں کو ساتھ ملا کر اپنے مطالبات تسلیم کروانے کیلئے احتجاجی تحریک کی جانب بڑھتی رہی۔ حکومت بالخصوص جنرل ضیاء الحق ٹال مٹول اور زبانی جمع خرچ، بیانات دینے تک محدود رہا، جس پر تحریک کی قیادت کا موقف تھا کہ جو کچھ زبانی یقین دہانی کروائی جا رہی ہے، اسے آرڈیننس کے ذریعے عملی کیا جائے۔

یہ اتنا اہم مسئلہ تھا کہ جس کیلئے اسلام آباد میں ہاکی گرائونڈ میں معروف اجتماع منعقد ہوا، جو ایک طویل داستان ہے۔ بہرحال یہ اجتماع اور مطالبات کی منظوری کیلئے پارلیمنٹ کی طرف مارچ، کفن پوش دستوں کی تشکیل اور امامیہ اسٹوڈنٹس کی اس سارے عرصہ میں خدمات اور کردار ایک الگ داستان ہے، جسے ہم سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔ اگلے حصہ میں مفتی جعفر حسین کی کچھ مزید خدمات، ان کی جانگدزا رحلت اور پھر قائد ملت علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید کا انتخاب، ملت کی تعمیر ترقی، سربلندی، عروج اور پیش رفت کے نئے دور کا آغاز سامنے لائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل مفتی جعفر حسین قبلہ جنرل ضیاء الحق داستان ہے منعقد ہوا قائد ملت اپریل کو

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان